خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 790 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 790

خطبات طاہر جلد ۴ 790 خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۸۵ء ان کو تبلیغ کروائی اور آخر پر ایک دوست نے جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے بیعت کی تھی انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں دستی بیعت کرنی چاہتا ہوں اور جب دستی بیعت ہو رہی تھی تو انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے بھی فوراً دستی بیعت میں شمولیت کر لی اور ان سے مزید علیحدگی برداشت نہیں ہوئی۔ وہ بڑے قابل آدمی ہیں ان کا ہزاروں پر اثر ہے اور اس علاقہ میں بہت ہی معزز ہیں۔ میں نے تو ہزاروں پر اثر کہا ہے ان کا یہ بیان تھا کہ یہاں ہمارے ملک اور ساتھ کے ملک کے کئی لاکھ باشندے ہیں اور میں انشاء اللہ ان سب تک پیغام پہنچاؤں گا۔ تو جب خدا نئی زمینیں عطا کرتا ہے تو ساتھ زمینیں بھرنے والے بھی عطا کر دیا کرتا ہے۔ یہ ہے اس کی شان ۔ محاورہ ہے کہ کوئی کسی سے کچھ مانگے تو غریب آدمی پھر بہانے کے طور پر مزید بھی مانگتا رہتا ہے کہ اونٹ دے لادنے والے بھی ساتھ دے۔ ہمارے تو مانگنے کے بہانے ہوتے ہیں خدا کی عطا کے بہانے ہوتے ہیں۔ وہ ایک چیز دیتا ہے تو اس کی ضروریات کے دوسرے حصے بھی خود بخود پورے کرتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ بیلجیئم کا نیا مشن جو بہت دعاؤں کے ساتھ کھولا گیا ہے اس کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے وہی شان دکھائی ، وہی وعدے پورے کئے اور جو معززین تشریف لائے انہوں نے بہت لمبا عرصہ تک وہاں بیٹھ کر سوال و جواب کی مجلس میں شرکت کی اور خود ایسے سوال کئے۔ میں تو براہ راست پہلے تبلیغ تو نہیں کرنی چاہتا تھا کیونکہ مہمانوں پر یہ بات بعض دفعہ بوجھ ہو جاتی ہے کہ بلایا ہے کس غرض سے ، افتتاح کے لئے اور ساتھ اپنی ساری تبلیغ شروع کر دی لیکن خدا نے ان کے دل میں سوال ایسے ڈال دیئے اور پھر جوابوں میں ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی کہ وہ مجلس ختم ہونے میں نہیں آتی تھی۔ یہاں تک کہ چونکہ میر صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے جو پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں ۔ ان کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں ایک اور الیکشن قریب تھا تو ان پر بھی رحم کرتے ہوئے ، انہوں نے یہ نہیں کہا میں نے خود یہ کہا کہ اب بعض لوگوں کو کام ہوں گے اس لئے ہم مجلس ختم کرتے ہیں۔ لیکن جو بیٹھنے والے تھے ان کی کیفیت تو یہ تھی کہ بیٹھے رہتے اور سوال کرتے چلے جاتے کو کی فرق نہیں پڑتا ۔ ہم نے بعد میں بھی بعض معززین سے رابطہ کیا ، رات کھانے پر ایک دو دوستوں کو پیغام بھجوایا ۔ وہاں یہ عادت نہیں ہے کہ دو گھنٹے کے نوٹس پر پہنچ جائیں لیکن خدا کے فضل سے دو گھنٹے کے نوٹس پر ہی پہنچ گئے اور پھر بڑے لمبا عرصہ تک مختلف موضوعات پر گفتگو جماعت کے مسائل پر ہوتی