خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 768

خطبات طاہر جلد۴ 768 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء قبضہ میں آگئی ہے۔تو وہ ایک چونکہ اس خوشخبری میں یہ دونوں باتیں اکٹھی بیان ہوئی تھیں۔تو پہلا دھڑ کا تو مجھے اس بات کا تھوڑا سا خفیف سا ہوا کہ یہ کام تو ہو گیا ہے اب لیکن بہر حال خدا پھر بھی زندگی دیتا رہا اور جب تک چوتھے سال میں داخل نہیں ہوئے اس وقت تک خدا نے نہیں بلایا۔چار سال مکمل تو نہیں ہوئے لیکن ان چار سال میں داخل ہو کر تیسرے مہینے میں تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے پھر ان کو واپس بلا لیا۔آپ کی زندگی اپنے اندر کئی قسم کے نشان رکھتی تھی۔اللہ تعالیٰ کی محبت کے کچھ سلوک تھے جو براہ راست ان پر ہمیشہ نازل ہوتے رہے کچھ خدا نے دوسروں کو بھی دکھایا ، مجھے بھی دکھایا کہ میں اس شخص سے پیار کرتا ہوں۔اس لئے جب میں یقین سے کہتا ہوں تو کچھ یہ پہلو بھی ہے یقین کا کہ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقى (النجم :۳۳) خدا تو بہر حال تقویٰ کو جانتا ہے۔وہ جب یہ سلوک فرماتا ہے کہ غیروں کو بھی اس کے تقویٰ کے نشان دکھانے لگے اور اپنی محبت اور پیار کے نشان دکھانے لگے تو پھر یہ امید اور یہ حسن ظن کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت اور پیار کا سلوک کرے گا ایک اور منزل میں داخل ہو جاتے ہیں۔ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے اوپر اللہ تعالیٰ بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔ان کی اولاد پر ، ان کی نسلوں پر، ان کے عزیزوں پر ، ان سب پر جو آپ کو پیارے تھے اس رنگ میں بھی رحمتیں نازل فرمائے کہ ان کی خوبیاں اختیار کرنے کی توفیق بخشے۔جماعت احمدیہ کو اس وصال پر صدمہ تو ہے بڑا گہرا صدمہ ہے لیکن اس صدمے کے نتیجے میں مہمیز کا سا اثر ہونا چاہئے مایوسی کا اثر نہیں ہونا چاہئے۔خدا تعالیٰ کی رحمتیں بے شمار ہیں وسیع ہیں اس کی عطا کے دروازے کوئی بند نہیں کر سکتا اور جن راہوں میں وہ کھلتے ہیں وہ لا متناہی راہیں ہیں۔اس لئے آپ کو اگر خدا ظفر اللہ خان نہیں بنا سکتا تو اپنی اولاد کو بنانے کی کوشش کریں اور اولاد در اولا دکو یہ بتاتے چلے جائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایک نہیں دو نہیں بکثرت ایسے غلام عطا فرمائے گا جو عالمی شہرت حاصل کریں گے۔جو علم وفضل کے مضامین میں حیرت انگیز ترقیات حاصل کریں گے جو بڑے بڑے عالموں اور فلسفیوں کے منہ بند کر دیں گے اور قو میں ان سے برکت پائیں گی۔ایک قوم یا دو قوم بھی نہیں کل عالم کی قومیں ان سے برکت پائیں گی۔تو خدا کرے