خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 766
خطبات طاہر جلدم 766 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء اور اللہ تعالیٰ سے کچھ باتیں کر رہے ہیں اور میں سن بھی رہا ہوں اور اس کے ساتھ ایک ذہنی تبصرہ بھی ہو رہا ہے لیکن گویا میری آواز وہاں نہیں پہنچ رہی۔اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب سے یہ پوچھا کہ آپ کا کتنا کام باقی رہ گیا ہے تو چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ کام تو چار سال کا ہے لیکن اگر آپ ایک سال بھی عطا فرما دیں تو کافی ہے۔یہ سن کر مجھے بہت سخت دھکا سا لگا اور میں چوہدری صاحب کو یہ کہنا چاہتا تھا کہ آپ چار سال مانگیں خدا تعالیٰ سے یہ کیا کہہ رہے ہیں کہ ایک سال بھی عطا ہو جائے تو کافی ہے۔مانگ رہے ہیں خدا سے اور کام چار سال کا بیان کر رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ایک سال ہی کافی ہے۔مجھے اس سے بے چینی پیدا ہوئی لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس نظارے میں میں اپنی بات پہنچا نہیں سکتا تھا صرف سن رہا تھا کہ یہ گفتگو ہورہی ہے۔وہ میں نے پھر دوسرے دن ہی چوہدری حمید نصر اللہ صاحب اور ان کی بیگم کو لکھ کے بھیج دیا اور مجھے اس سے تشویش پیدا ہوئی کہ ہو سکتا ہے خدا تعالیٰ لمبی زندگی نسبتا دے دے لیکن کام کا صرف ایک سال ہی ملے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے۔۱۹۸۳ء میں آپ پر شدید بیماری کا حملہ ہوا اور اس وقت تک جو وہ کام کر سکے ہیں عملاً اس کے بعد پھر رفتہ رفتہ ان کو کام سے بالکل الگ ہونا پڑا یعنی بھر پور کام صرف ایک سال توفیق ملی ہے۔پھر آپ کو بیماری کی وجہ سے پاکستان جانا پڑا اور اس کے بعد پھر طبیعت گرتی چلی گئی ہے کمزور ہوتی چلی گئی ہے، پھر آخر پر صرف مطالعہ پر آگئے تھے۔اور چار سال تو اس وقت کے بعد نہیں ملے لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ جو شدید بیماری کا حملہ ہوا ہے جس پر ڈاکٹروں نے کہا کہ بچنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔یہ اس کشف کے دوسال کے بعد دوبارہ ہوا ہے یعنی ۱۸۲ء میں جب میں کراچی تھا تو فروری میں یہ مجھے اطلاع ملی کہ ابھی لاہور سے فون آیا ہے کہ اب تو کوئی بچنے کی صورت بظا ہر نہیں رہی۔۔اس وقت مجھے یہ یقین دل میں اللہ تعالیٰ نے ڈالا دعا بھی میں نے کی لیکن پھر رات رویاء میں خدا تعالیٰ نے دکھایا کہ ایک خط آیا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے جو چوہدری صاحب کی اس بیماری کے متعلق میں پڑھ رہا ہوں اور صرف ایک فقرہ ہے جس پر نظر جمی ہوئی ہے اور اس فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ میں زندہ بھی کرتا ہوں اور بوجھ بھی اتار دیتا ہوں، مہیا بھی کر دیتا ہوں۔یعنی یحیی کا مضمون تھا۔دونوں معنوں میں دوسری ' کے ساتھ بھی کہ میں مہیا بھی کرتا ہوں اور زندہ بھی کرتا ہوں۔تو مجھے