خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 765 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 765

خطبات طاہر جلدم 765 خطبہ جمعہ ۶/ ستمبر ۱۹۸۵ء واپس جاسکوں کیونکہ مجھ میں ان کے شکوے کی ہمت نہیں تھی اور وہ اس بات پر یقیناً بہت شاکی ہو جاتے تھے۔اس لئے جب ہم نماز پڑھتے تھے تو مجھے کہا کرتے تھے کہ تم نماز پڑھاؤ اور اس وقت جو ان کی کیفیت ہوتی تھی قریب سے وہ صرف سنے کا سوال نہیں وہ محسوس ہونے لگتی تھی۔عجیب خشوع وخضوع تھا ان کی نمازوں میں اور ہر لفظ جو ادا کرتے تھے ایک ایک لفظ موتی کی طرح سجا کر خدا کے حضور پیش کیا کرتے تھے۔گویا التحیات للہ کے مفہوم سمجھ رہے ہیں جانتے ہیں کہ عبادت تبھی قبول ہوگی اگر تحفہ کے طور پر پیش کریں گے ورنہ بے معنی ہو جائے گی۔پھر وہ پرائیویٹ مجلسوں میں جو گفتگو ہوا کرتی ہے۔مختلف پہلوؤں سے ان کی طبیعت میں جھانکنے کا موقع ملا۔پھر خط و کتابت کے ذریعے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان کے خطوط ایسے ہیں بڑے سنبھال کے میں نے رکھے ہوئے ہیں لیکن چونکہ ان کا مزاج نہیں تھا کہ لوگوں کو ان کی بعض اندرونی کیفیات کا پتہ چلے۔صرف چند دوستوں کے ساتھ چند آدمیوں سے وہ خطوں کے وقت بے تکلف ہو جاتے تھے اور ہر خط میں ان کی انکساری کا پہلو اتنا حیرت انگیز ہے کہ جو خط پڑھنے والے کو شرمندہ کر دیا کرتا تھا۔بے حد بجز اور انکساری اسی وجہ سے ان کے ساتھ مجھے خاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تعلق عطا ہوا ہوا تھا۔جب خلافت کے بعد خدا تعالیٰ نے مجھے پہلا کشف دکھایا ہے تو تعجب کی بات نہیں کہ پہلے کشف میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہی دکھائے گئے اور وہ بھی ایک عجیب کشف تھا میں حیران رہ گیا کیونکہ اس قسم کی باتوں کی طرف انسان کا ذہن عموماً جا ہی نہیں سکتا۔ایک دن یا دو دن خلافت کو گزرے تھے تو کسی نے پوچھا کہ آپ کو خلیفہ بننے کے بعد کوئی الہام کوئی کشف وغیرہ ہوا ہے میں نے کہا مجھے ابھی تک تو کچھ نہیں ہوا بس میں گزر رہا ہوں جس طرح بھی خدا تعالیٰ سلوک فرما رہا ہے ، ٹھیک ہے۔تو اس کے چند دن کے بعد ہی میں نے صبح کی نماز کے بعد کشفاً بڑے واضح طور پر ایک نظارہ دیکھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب لیٹے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے باتیں کر رہے ہیں اور میں وہ باتیں سن رہا ہوں اور فاصلہ بھی ہے۔مجھے یہ علم ہے کہ لیٹے لندن میں ہوئے ہیں لیکن جس طرح فلموں میں دکھا دیا جاتا ہے قرب کہ ٹیلیفون کہیں دور سے ہو رہے ہیں اور سن رہا ہے گویا کہ اس قسم کے مزے کیمر ہیٹرک سے ہو جاتے ہیں۔تو کشفا یہ دیکھ رہا تھا کہ چوہدری صاحب اپنے بستر پہ لیٹے ہوئے ہیں