خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 764
خطبات طاہر جلدم 764 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء خدمت کی توفیق ملی کہ عرب اٹھ اٹھ کر آپ کے ہاتھ چومتے تھے، بڑے بڑے سر براہ اور اپنے اپنے ممالک میں بڑی عظمتوں کے مالک اور اس بات پر فخر کرتے تھے۔اس قدر محبت تھی، اتنا پیار تھا کہ جو ان میں سے وفادار تھے۔انہوں نے آخر دم تک اس کو نبھایا ہے۔صرف فلسطین کا معاملہ نہیں تھا۔مورا کو ( مراکش ) کی خدمت کی توفیق ملی Tunisia ( تیونیس) کی خدمت کی توفیق ملی، Jordan (اردن) کی خدمت کی توفیق ملی اور اس کے علاوہ بکثرت دیگر ممالک تھے ،سوڈان کی خدمت کی توفیق ملی۔بکثرت تھے صرف مسلمان ممالک ہی نہیں بلکہ بہت سے دیگر ممالک بھی جن کے حق میں آپ نے باتیں کہیں، جن کے حق حاصل کرنے میں آپ نے مدد کی۔مسلمان ممالک میں آپ کو انڈونیشیا کی خدمت کی بھی توفیق ملی۔United Nations میں آپ کی تقاریر کا جور یکارڈ ہے وہ دو سال قبل میں نے بڑی محنت سے کوشش کر کے وہ حاصل کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا نے ایک سبیل بنا دی اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے ذریعے وہ سارا ریکارڈ مجھے مل گیا ہے کیونکہ خواہش یہ تھی کہ چوہدری صاحب کی ان تاریخی خدمات کو وقتا فوقتا دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا رہے کیونکہ بعض لوگ تو خیر بھول جاتے ہیں بعض لوگ نئی الٹی باتیں ایجاد کر لیا کرتے ہیں۔یعنی جہاں مسلمان ممالک کی خدمت کی ہے وہاں یہ الزام لگانے والے بھی بد قسمت ہیں کہ مسلمان ممالک کے مفاد کے خلاف کوشش کی نعوذ باللہ من ذالک تو میں نے تو اس نیت سے اس کو اکٹھا کیا تھا لیکن اب جب اس کو وقتا فوقتا دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملے گا تو جو اپنی معصومیت میں بھولے ہوئے ہیں ان کو بھی یاد تو آئے گا کہ کوئی ایک ایسا انسان ایک درویش صفت خدا کا بندہ تھا جس نے ملکوں اور قوموں کی بے لوث خدمتیں کی ہیں۔بہر حال یہ تو بہت ہی ایک لمبی فہرست ہے اور لمباذکر ہے۔میں اپنے ذاتی تاثرات بیان کر رہا تھا اور وہ میں اسی پر پھر بات ختم کرنی چاہتا ہوں کہ چوہدری صاحب کے ساتھ میری خط و کتابت بھی بہت رہی ہے اور میں جانتا ہوں کہ بہت ہی نرم دل تھا، اللہ تعالیٰ کی خشیت تھی اور خشوع و خصوع تھا۔مجھے آپ کے ساتھ اکٹھے نماز پڑھنے کی بھی توفیق ملی ہے۔کبھی میں لاہور جاتا تھا تو ہمیشہ بڑی محبت سے بلایا کرتے تھے اور کبھی یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ وہ لا ہور میں ہوں اور میں ملے بغیر یا آپ کے ساتھ کھانا کھائے بغیر یا آپ کے ساتھ کچھ وقت گزارے بغیر