خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 763
خطبات طاہر جلدم 763 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء عظمت تو کردار سے نصیب ہوا کرتی ہے لفاظی سے نہیں ہوا کرتی کہ اس کے نتیجہ میں غیروں پر بھی رعب بیٹھتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ چوہدری صاحب نے مجھ سے خود ذکر کیا بے تکلفی کی باتیں ہو رہی تھیں کھانے پر کہ حیرت ہوتی تھی کہ وہ لوگ جن کا کوئی دین سے کوئی تعلق نہیں ، مذہب سے کوئی تعلق نہیں ، میرے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان کو اچھا سلوک کرنے کا پابند فرما دیا کیونکہ وہ ہر بات اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے تھے اس لئے ذکر ہمیشہ اسی رنگ میں کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے احسان ہے کہ اس نے ان کے دل میں ایک رعب سا ڈال دیا تھا اور وہ میری باتوں کو مانتے تھے حالانکہ بظا ہر کوئی حق نہیں تھا میرا اس طرح ان کو آداب کے پابند کرنے کا۔پریذیڈنٹ کی حیثیت معلوم ہے معروف ہے لیکن سیاست کی دنیا میں جو تو قعات کی جاتی ہیں ایک پریذیڈنٹ کے رعب داب کے متعلق وہ عملاً نہیں ہوا کرتا۔آزاد ممالک ہیں، طیش میں آئیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔کون بیٹھا ہے نظم و ضبط کیا ہوتا ہے اور وقت کی پابندی کروانا یہاں تک بھی آپ کو وہاں آداب سکھانے پڑے اور بلا شبہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کلام ایک ذات میں بھی پورا ہوا ہے۔ویسے تو بکثرت ایسے احمدی ہیں جن سے قوموں نے فائدے اٹھائے ہیں لیکن وہاں ایک ذات میں یہ ساری باتیں اکٹھی ہو گئیں۔ایک سرچشمے سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی پر فخر کیا کرتا تھا تمام اقوام عالم نے فائدہ اٹھایا اور سیراب ہوئیں۔اور پھر قوموں کی بھر پور خدمت میں آپ کو خدا تعالیٰ نے ایسے ایسے مواقع نصیب فرمائے کہ وہ وقت ایسا تھا جبکہ نئی تاریخ کی شکلیں بن رہی تھیں۔یہ جو آج کی جدید تاریخ ہے اس کی بنیادیں ڈالی جارہی تھیں۔اس دور میں جب کہ آپ کو United Nations میں پیش ہونے کا موقع عطا فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک ممبر کی حیثیت سے، ایک نمائندے کی حیثیت سے یا بعد ازاں ایک صدر کی حیثیت سے۔چنانچہ ایک لمبے دور تک جب آپ پاکستان کے وزیر خارجہ بنے ہیں اُس وقت سے United Nations کی صدارت تک پہنچنے کے درمیان تک کا جو عرصہ ہے یہ عرصہ ایک بہت ہی اہم عرصہ ہے جس میں نئی تاریخ بن رہی تھی۔چنانچہ آپ کو موقع ملا عربوں کی خدمت کا فلسطین کے معاملے میں اور ایسی عظیم الشان