خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 759

خطبات طاہر جلدم 759 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء اس لئے اسی پر بس کرتا ہوں کہ جس وقت حضور حکم فرماویں افغانستان کو روانہ ہونے کے لئے تیار ہوں اور فقط حضور کی دعاؤں اور اللہ کی رضا کا طلبگار ہوں۔والسلام حضور کا ادنی ترین غلام۔خاکسار ظفر اللہ خان ۸/ نومبر ۱۹۲۴ء۔یہ آپ کا انکسار تھا یہ آپ کا جذبہ خدمت تھا اور اللہ کی ذات کے ساتھ محبت تھی ، دراصل خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف کہ جو آپ کے سر پہ سوار رہا کرتا تھا اور خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کی خواہش یہ وہ دو جذبات تھے جو چو ہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ساری عمر ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف رواں دواں رکھتے رہے۔یہ وہ قوت تھی جس سے آپ نے تمام عمر حرکت حاصل کی ہے۔توانائی کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی محبت تھی اور یہ سر چشمہ جس کو نصیب ہو جائے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لامتناہی نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہر قدم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے راہنمائی نصیب ہوتی ہے۔اللہ کا خوف ان معنوں میں کہ خدا کی محبت سے محروم ہونے کا خطرہ اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی حرص ان معنوں میں کہ کچھ ایسے کام کرنے کی توفیق ملے کہ اللہ تعالیٰ محبت اور پیار سے ہمیں دیکھنے لگے۔یہ دو بنیادی قوتیں ہیں جن سے مومن کو ہر ترقی نصیب ہوتی ہے اس کی دعائیں بھی اسی زور کے ساتھ اوپر اونچی بلند ہوا کرتی ہیں ،اس کے کاموں کو رفعتیں ملتی ہیں،اس کی کوششوں کو پھل نصیب ہوتے ہیں۔خطرات سے وہ بچایا جاتا ہے اور غیر معمولی تائید الہی کے نشان اس کو عطا کئے جاتے ہیں اور خدا کی راہ میں قربانی کے جو مختلف مظاہر ہیں خواہ اس کا نام آپ چندہ رکھ لیں ، خواہ اس کا نام وقت کی خدمت، جان کی قربانی عزت کی قربانی۔یہی دو جذبے ہیں حقیقت میں جن کا نام تقویٰ ہے اور اسی تقوی سے یہ ساری نیکیاں پیدا ہوتی ہیں تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے الہاماً بتایا اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے“۔(اخبار الحکم ۳۱ راگست ۱۹۰۱ء، ملفوظات جلد اصفحہ ۵۳۶) آپ نے ایک شعر کہنے کے لئے ایک مصرعہ کہا کہ ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتفا ہے۔ایسا پیارا معرفت کا نقطہ تھا ابھی آپ دوسرا مصرع کہہ نہیں پائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسرا مصرعہ الہام ہوا اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے“۔تو جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تقویٰ