خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 757 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 757

خطبات طاہر جلدم 757 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء کریں کہ وہ کابل میں جائیں گے اور ایک شہید کی بجائے وہ لوگ خدمات سرانجام دیں گے جو وہ شہید شہادت کی بنا پر مزید سرانجام نہیں دے سکا اور اس سلسلے کوٹوٹنے نہیں دیں گے۔یہ تھی اس کی روح اور جو نام پیش ہوئے اس وقت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لاہور کے امیر تھے، نام پیش ہونے والوں میں سب سے پہلا آپ کا نام ہے جو الفضل میں شائع ہوا۔اس نام کو پیش کرتے ہوئے آپ نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جو خط لکھا ہے وہ خط ایسا خط ہے چونکہ وہ اپنے امام کو لکھ رہے تھے اس لئے باوجودطبیعت کی روکوں کے جن کا خود ذکر کر رہے ہیں نسبتا زیادہ آسانی کے ساتھ کھل کر اپنی قلبی کیفیات کو ظاہر کر سکتے تھے۔ایسے موقع پر آپ کی ذات کے اندر جھانکنے کا موقع ملتا ہے۔تقویٰ کی کن راہوں سے آپ گزر رہے تھے؟ کیا آپ کے قلبی جذبات اور کیا آپ کی کیفیات تھیں؟ جب آپ نے اپنے نام کو پیش کیا ہے اور کس طرح پھر تنقیدی نظر ڈالی ہے اپنی زندگی پر ، اپنی اندرونی کیفیات پر تجزیہ کیا ہے اس خوف کیسا تھ کہ کہیں میں ریا کاری کا مظاہرہ تو نہیں کر رہا۔یہ ساری باتیں اس خط سے آپ کو نظر آئیں گی یعنی اس خط کے آئینے میں آپ کو نظر آئیں گی۔وہ لکھتے ہیں: سید نا وامامنا السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔میری زندگی آج تک ایسی ہی گزری ہے کہ سوائے اندوہ وندامت کے اور کچھ حاصل نہیں“۔بڑی کامیاب زندگی آپ گزار رہے تھے سیاست میں بھی آپ کو دخل ہو چکا تھا، آپ کی قابلیت کا شہرہ ہندوستان میں بھی پھیل رہا تھا اور ہندوستان کے مسلمان باشعور حلقوں کی نگاہیں آپ کی طرف اٹھ رہیں تھیں اس ساری زندگی میں سے گذرتے ہوئے جو ماحصل تھا آپ کے اپنے ذاتی تجزیہ کا اپنے آپ کو کس مقام پر دیکھ رہے تھے اس کا اظہار ہوتا ہے وو سوائے اندوہ و ندامت کے اور کچھ حاصل نہیں۔میں اکثر غور کرتا ہوں کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ سوائے روزی کمانے کے کسی اور کام کی فرصت نہ ملے۔حالانکہ امارت لاہور کے بھی بھر پور فرائض سرانجام دے رہے تھے اس وقت۔