خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 68
خطبات طاہر جلدم 68 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء اس زمانہ کے لوگ آپ پر کرتے ہیں۔اور یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ ہر زمانہ کے نبی پر جو اعتراض ہوتے ہیں وہ دراصل پرانے اعتراضات ہی ہوتے ہیں جن کو ہر بار دہرایا جاتا ہے۔سب سے پہلے نبی پر اعتراضات کی تفصیل تو معلوم نہیں مگر بہر حال وہ اعتراض تو پہلی دفعہ ہی ہوئے ہوں گے لیکن بعد ازاں یہ دستور ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور اسی کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان میں ایک ایسے ہی اعتراض کا معین ذکر فرمایا گیا ہے۔آنحضرت ﷺ کا انکار کرنے والے کیا اعتراض کرتے ہیں فرمایا: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكُ افْتَرَيَهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاءُ وَظُلْمًا وَ زُورَان کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد یا اللہ نے محض ایک جھوٹ بنالیا ہے اور اس معاملہ میں اس کے پیچھے کوئی دوسری قوم ہے جو اس کی مدد کر رہی ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی مدد کا جس قوم کے بارے میں الزام لگایا گیا اس سے متعلق ایک اور جگہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اسے عجمی کہتے تھے۔چنانچہ جواب میں فرمایا کہ اگر کوئی عجمی اس کی مدد کرتا ہے اور اس کو لکھ کر دیتا ہے اور ایک عجمی کی مدد سے آپ دعویٰ نبوت کر بیٹھے ہیں تو آپ کے کلام میں کوئی عجمیت تو نظر نہیں آتی پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ مدد گار تو عجمی ہو لیکن اس کا طرز کلام عجمی سے بالکل مختلف ہو۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو اعتراضات ہوئے وہ بھی بعینہ وہ قرآن کریم کی ان آیات کی روشنی میں پرانے اعتراضات ہی ہیں جو د ہرائے جارہے ہیں اور ایک بھی نئی بات ایسی نہیں جو گزشتہ انبیاء کے متعلق نہ کہی گئی ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہی گئی ہو اور بسا اوقات جو اعتراضات حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر کئے جاتے تھے وہی آپ کے عاشق صادق ، محبت کرنے والے پاکیزہ غلام پر بھی دہرائے جا رہے ہیں۔چنانچہ حکومت پاکستان نے جو مزعومہ وائٹ پیپر شائع کیا ہے اس میں بھی بہت زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے اور انگریز کا بنایا ہوا نبی ہے چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں کہ : جدید محققین نے ثابت کر دیا ہے کہ احمدیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے جو برطانوی سلطنت کے مفادات کے تحفظ کی خاطر لگایا گیا۔