خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 67
خطبات طاہر جلدم 67 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء قرطاس ابیض کے الزامات کا جواب خود کاشتہ پودا کی حقیقت خطبه جمعه فرموده یکم فروری ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل قرآنی آیات تلاوت کیں : وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكُ افْتَرَبهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاء وَظُلْمًا وَ زُورًا وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان: ۵-۷) پھر فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ انشاء اللہ تعالیٰ اپنے ایک پرانے وعدہ کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے شائع کردہ مزعومہ White Paper کے متعلق ذکر کروں گا اور اس کا ایک ایک اعتراض لے کر جواب دوں گا۔گزشتہ خطبہ جمعہ سے پہلے جو میں نے تلاوت کی تھی اس میں اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ آنحضرت ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ کوئی ایک بھی نئی بات نکال کر نہیں لا سکتے بلکہ سب کچھ اپنے سے پہلوں کی نقل کرتے ہیں۔آنحضور ﷺ سے پہلے کے انبیاء پر جو اعتراض ہوئے وہی صلى الله