خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 726
خطبات طاہر جلدم 726 دکھارہے تھے اس وقت ہمیں تمہیں دیکھ کر خوف آتا تھا۔“ خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء یہ نظارہ تھا جو دوسری آنکھ نے جو باہر کی آنکھ تھی دیکھا یعنی بجائے اس کے کہ ان کو ذلیل اور رسوا ہوتے ہوئے دیکھ کر بظاہر اور مار کھاتے ہوئے دیکھ ان کو وہ چھوٹے نظر آئیں ان کو یہ بڑے نظر آرہے تھے۔جب میں نے یہ پڑھا تو مجھے جنگ بدر کا وہ واقعہ یا د آ گیا اس کی حکمت سمجھ آگئی۔جب مشرکین مکہ کے سردار نے ایک نمائندہ بھیجا کہ مسلمان فوج کا جائزہ لے کر آؤ کہ وہ کس قسم کی فوج ہے۔اشارہ قرآن کریم نے بھی اس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے گو تفصیل نہیں بیان کی۔تو جب وہ دیکھ کر واپس آیا تو اس نے آکر کہا۔اہل مکہ ! تمہارے جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔بہتر یہی ہے کہ تم واپس چلے جاؤ کیونکہ جو میں دیکھ کر آیا ہوں میں کامل یقین کے ساتھ لوٹا ہوں کہ تم نے لازم ہارنا ہے اور شکست تمہارے لئے لکھی گئی ہے، تم اس شکست سے بچ ہی نہیں سکتے اس لئے عزت اور جان بچا کر خاموشی سے یہیں سے واپس مڑ جاؤ۔انہوں نے تعجب سے پوچھا کہ آخر کیا تم نے دیکھا ہے۔کیا غیر معمولی ہتھیار ہیں، کتنی بڑی ان کی نفری ہے۔اس نے کہا میں تمہیں بتا تا ہوں ان کی نفری یہ ہے کہ تین سو کے لگ بھک آدمی ہیں، نہ ان کے پاس گھوڑے نہ ان کے پاس نہ اونٹ ، نہ ان کے پاس تیرانداز، تلواریں بھی سب کے پاس نہیں ہیں، ڈنڈے بھی ہیں تو مکمل نہیں کسی کے پاس آدھا ڈنڈا ہے،ان میں بوڑھے بھی دیکھ کر آیا ہوں، ان میں بچے بھی دیکھ کر آیا ہوں، ان میں لنگڑے بھی میں نے دیکھے ہیں تو یہ وہ نقشہ ہے جو میں نے دیکھا ہے۔اس پر سردار لشکر نے بڑے تعجب سے کہا کہ پھر یہ نتیجہ تم کیوں نکال رہے ہو جو تم دیکھ کر آئے ہو اس کا تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لازماً وہ شکست کھا جائیں گے اور ہم جیتیں گے۔اس نے کہا یہ درست نہیں، نتیجہ وہی نکلتا ہے جو میں نکال رہا ہوں کیونکہ ان کے چہروں پر میں نے ایسے عزم دیکھے ہیں، ہر پیشانی پر موت لکھی ہوئی دیکھی ہے۔ایسے لوگ دیکھے ہیں جو دنیا کی ہر چیز سے بے خوف ہیں یہ قوم جن کی پیشانیوں پر موت لکھی ہوئی ہوان کو تم نہیں مار سکتے۔زندوں کو تو مار لیا کرتے ہیں مردوں کو نہیں کرتے وہ تو خدا کی راہ میں مردے بن کے آئے ہیں اس لئے تم ان پر غالب نہیں آؤ گے اور واقعہ وہی ہوا۔(طبری وابن سعد وابن ہشام) تو کمزوری ظاہری اور بے بسی یہ اپنا ایک اثر رکھتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں مگر پھر جب ان