خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 725 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 725

خطبات طاہر جلد۴ 725 خطبه جمعه ۲۳ / اگست ۱۹۸۵ء چور جو موٹر سائیکل کا ہے وہ کیا شرم کرے۔جس کو مار پڑتی ہے وہ تو بولا ہی کرتا ہے اس میں کون سی شرم کی بات ہے مگر شرم کی بات تو یہ ہے کہ معصوم انسانوں کو محض اس جرم میں کہ وہ خدا کا نام لیتے ہیں تم مارو اور پھر مار مار کر خود نڈھال ہو جاؤ اور اس بات میں ناکام ہو جاؤ اور نامرادر ہو کہ ان کے منہ سے کوئی چیخ سن سکو، ان کا کوئی واویلا دیکھ سکو۔تم نے الٹی بات کی ہے اس کو کہنے کی بجائے تمہیں یہ فقرہ کہتے ہوئے شرم چاہئے تھی۔پھر وہ کہتے ہیں : اسلم صاحب نے بتایا کہ میرا تو ایمان کم کرنے کی بجائے پولیس نے ایمان بڑھا دیا کیونکہ میں اس نظر سے یہ بات دیکھ رہا تھا کہ تمام خداموں کا منہ دیکھتے ہوئے میرا ایمان بڑھ رہا تھا کہ ابھی تو ان کو یہ معلوم تھا کہ تھانے میں تشدد ہوتا ہے پھر بھی یہ بیج لگا کر آتے ہیں اور اس وقت وہ نو احمدی کہتے ہیں کہ مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اگر ان کو یہ معلوم ہوتا کہ وہاں بیج لگانے والے کو گولی ماردی جاتی ہے تو پھر بھی یہ لوگ پیچھے نہ ہٹتے (اور یہ لکھنے والے کہتے ہیں کہ ) خدا کی قسم ! اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ وہاں کلمہ کا بیج لگانے پر گولی ماردی جاتی ہے تو ایک بھی خادم اس قربانی سے دریغ نہ کرتا اور ہنستے گاتے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اس راہ میں قربان ہو جاتا“۔پھر ایک اور صاحب کا واقعہ لکھا ہے کہ انہوں نے ان کو دیکھا گلیوں میں پھرتے ہوئے ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے ، قید خانوں کی طرف جاتے ہوئے ،شہروں میں لوگوں کے سامنے ان کی بے عزتی ہوتے ہوئے ، جوتے عوام میں ان پر برستے ہوئے۔اس وقت وہ دیکھنے والا ان کو کیا دیکھ رہا تھا اس نے بعد میں آکر بعض احمد یوں کو نظارہ بتایا کہ تم جس حال سے گزر رہے تھے ایک تمہارا اندرونی تجربہ ہے، ایک ہم باہر سے دیکھنے والوں کو خدا کیا دکھا رہا تھا وہ یہ تھا کہتے ہیں: کہ جب آپ کلمہ طیبہ کا بج لگا کر شہر میں گھومتے تھے تو تمہارا قد عام قد سے دو دو فٹ اونچا نظر آتا تھا اور تمہارے چلنے کا انداز اور چلنے والوں جیسا نہیں تھا۔وہ تو ایک الگ شان کی چال تھی جس کی وجہ سے تمہارے چہرے ایک دم رعب دار نظر آتے تھے اور واقعی تم ایک الگ مخلوق کی طرح انفرادیت کی شان