خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 724 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 724

خطبات طاہر جلدم 724 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۸۵ء بند کر دیتے تو آپس میں باتیں کرتے تھے کہ یا تو یہ قادیانی کوئی انجکشن لگوا کر آتے ہیں یا کوئی ایسی دوائی کھا کر آتے ہیں جس سے ان کو درد نہیں ہوتا کیونکہ ہم میں سے کسی نے بھی تشدد کے دوران چیخ و پکار نہیں کی تھی۔یہ تو خدا تعالیٰ نے ضبط کا بلند حوصلہ عطا کیا ہوا تھا۔اس کے بعد اسلم صاحب نے بتایا کہ جب بعد میں ایک موٹر سائیکل چور پکڑا گیا اور تھانے لایا گیا جو اچھا جوان تھا اسے پولیس نے تھوڑا بہت مارا تو وہ چیخنے چلانے لگا یہاں تک کہ محلے کے لوگ اکٹھے ہو گئے تو پولیس والے اسے گالیاں دے رہے تھے اور اسے کہہ رہے تھے کہ چھوٹے چھوٹے کم عمر قادیانی یہاں آتے رہے ہیں جن کو ہم نے اپنی طاقت کے مطابق جتنا بھی مار سکتے تھے مارا لیکن انہوں نے اف تک نہیں کی اور تم اچھے بھلے جوان آدمی ہو تمہیں ہم نے دو جوتے لگائے ہیں تو تم نے بیچ بیچ کر محلہ اکٹھا کرلیا ہے شرم کرو۔یہ جو واقعہ میں نے بیان کیا ہے ابھی اس کا کچھ حصہ رہتا ہے اس میں قانتا للہ اور صبر کرنے والے صبور لوگ ہیں خدا کے بندے عباد صبور ان کی دونوں صفات جلوہ گر ہیں یعنی صبر خدا کی خاطر ان معنوں میں کہ دشمن نے ایذارسانی کی انتہاء کر دی لیکن اپنے مقصد سے نہیں ہٹے ،صبر کا اصل بنیادی مفہوم یہ ہے اور کلمہ طیبہ سے جو محبت اور تعلق ہے اس سے باز نہیں آئے ، اس سے انہوں نے تعلق تو ڑا نہیں کلمہ سے بے وفائی نہیں کی۔اس کو کہتے ہیں صبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کی رو سے جو آپ نے فرمائی۔نیکیوں پر مخالفانہ حالات کے باوجود قائم ہو جانا اور ان نیکیوں کو پکڑے رہنا اور کسی حالت میں نیکی کو نہ چھوڑنا۔دوسرا قانت کی تعریف بھی ہوگئی کہ ادنی ادنی دنیا کے لوگ معمولی سی مارکھا کر شور ڈالنے لگ گئے ، واویلا کرنے لگ گئے مگر وہ لوگ جن کو خدا کی خاطر دکھ دیئے گئے تھے ان کی زبان سے اف بھی نہیں نکلی۔تو جو آیات میں نے پڑھ کر سنائی ہیں بالکل یہ ان کی ایک عملی تفسیر ہے جو وہاں احمدی نوجوانوں کو اپنی قربانیوں کے ذریعہ پیش کرنے کی توفیق عطا ہوئی اور یہ فقرہ ویسے مجھے بہت دلچسپ لگا کہ پولیس والے اس کو کہتے ہیں کہ شرم کرو۔بے حیائی کی حد ہے یعنی خدا کا نام لینے پر مجبور اور معصوم نوجوانوں کو مار مار کر تم تھک گئے اور نڈھال ہو گئے تم شرم کرو۔وہ