خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 723 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 723

خطبات طاہر جلدیم 723 خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء آرام کے وقت اپنے عیش کے وقت ، اپنی ہنسیوں کے وقت ،اپنے روز مرہ کے دستور میں ہمیشہ اپنے ذہن کو بار بار ان کی طرف لے کر جائیں اور ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔کنری میں جو کچھ ہوا اس کے بھی دلچسپ واقعات کی تفصیلات ملتی رہتی ہیں۔آج میں اس وجہ سے کہ یہ ذکر بار بار تازہ ہوتا رہے اور آپ کو یاددہانی ہوتی رہے کہ کن کن تجارب سے جماعت وہاں گزررہی ہے۔ہمارے نوجوانوں نے کیا کچھ دیکھا اور کیا کچھ محسوس کیا، میں واقعات پڑھ کر سنا تا ہوں۔اور یہاں جو زور ہے وہ دکھ پر نہیں یہاں صبر پر زور ہے اور چونکہ صبر کا مضمون چل رہا تھا اس لئے میں آپ کو نمونہ بتا تا ہوں کہ جو خدا کی راہ میں صبر کرنے والے ہوتے ہیں باہر بیٹھے ہوؤں کو ان کے لئے شدید دکھ کا احساس پیدا ہوتا ہے لیکن جو صبر کرتے ہیں خدا ان کو عجیب سکینت عطا فرما دیتا ہے۔ان کو ایسا حوصلہ اس وقت بخشا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو اس وقت مظلوم نہیں سمجھ رہے ہوتے۔ایک دوست ہمارے نوجوان ہیں اور جوایم۔ایس سی کے طالب علم ہیں وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن پر شدید مظالم کئے گئے اور ماریں کھا کھا کر وہ بے ہوش ہو جاتے رہے اور پھر ہوش آتی تھی تو کلمہ پڑھتے تھے، پھر اس کی پاداش میں ان کو نہایت ظالمانہ طور پر پیٹا جاتا تھا پھر بے ہوش ہو جاتے۔یہ وہ گروہ ہے احمدی نوجوانوں کا جو بڑی تعداد میں ہے۔ان میں سے ایک نوجوان جو پہلے بھی مجھ سے خط و کتابت کرتے رہے ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایم ایس سی کے طالب علم ہیں وہ ایک نواحمدی کی روایت بیان کرتے ہیں جو بہت دلچسپ ہے۔وہ کہتے ہیں: ایک نواحمدی تھے جو ان دنوں کنری تھانے میں موجود ہوتے تھے جن دنوں کلمہ طیبہ کے دشمن کلمہ کے فدائیوں کے خلاف ہر قسم کا حربہ استعمال کر رہے تھے۔یہ نواحمدی جن کا نام اسلم تھا ان کو بھی گرفتار کر کے تھانے میں ا بٹھایا ہوا تھا۔ان کو روحانی اذیت دی جارہی تھی اس طرح کہ ہر روز آنے والوں کو ان کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا تا کہ یہ صاحب احمدیت چھوڑ دیں۔اسلم صاحب نے ہمیں بتایا یہ وہ عینی گواہ موقع پر بٹھایا ہوا تھا یہ بتانے کے لئے تم سے بھی یہی سلوک ہوگا ابھی بھی تم باز آجاؤ اور احمدیت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں) کہ جب پولیس والے مار مار کر تھک جاتے اور پھر خداموں کو Lock up میں