خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 722
خطبات طاہر جلدم 722 خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء سوال اٹھا کر جب قرآن جواب دینے میں خاموشی اختیار کرتا ہے تو مضمون کو وسیع سے وسیع کر دیتا ہے۔بہت سے امکانی جوابات ہیں جن کو وہ کھلا چھوڑ دیتا ہے پھر مومن کا کام ہے وہ غور کرے اور تلاش کرے اور پھر لطف اٹھائے ان مخفی جوابوں سے جو اس خاموشی میں پنہاں ہیں۔تو اہل پاکستان کی طرف سے تو کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جو مجھے ان کے دکھوں کی تفصیل معلوم نہ ہو رہی ہو، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں سے ان کے دکھوں کی تفصیل معلوم نہ ہو رہی ہو۔ساہیوال میں ہمارے جو معصوم قیدی ہیں، کوئی ان کا جرم نہیں ہے اور سخت گرمیاں بھی انہوں نے نہایت ہی تکلیف دہ حالات میں دیکھیں سخت سردیاں بھی انہوں نے نہایت تکلیف دہ حالات میں دیکھیں، ان کی جو داستان ہے وہ بڑی دردناک ہے۔میں نے وہ منگوائی ہیں اور مختلف قسطیں ان کی آ رہی ہیں ان پر جو بیتی ہے جن حالات سے وہ گزرے ہیں، ان میں سے ایک نے لکھ کر وہ مجھے بھوانی شروع کی ہیں اور ایک شاید دو قسطیں ابھی باقی ہوں تو انشاء اللہ میں شائع کروں گا اور ساری دنیا میں ان کو ہم پھیلائیں گے تا کہ احمدیوں کے لئے تقویت ایمان کا موجب بنیں۔ان کو پتہ چلے کہ ان کے بھائی کن سختیوں اور کن مشکلوں میں سے گزر رہے ہیں۔پنو عاقل کے شہداء کے وارثوں کی طرف سے خط ملتے ہیں، حیدرآباد کے شہداء کے وارثوں کی طرف سے خط ملتے ہیں، نواب شاہ کے شہداء کے وارثوں کی طرف سے خط ملتے ہیں ،سکھر کے شہداء کے وارثوں کی طرف سے خط ملتے ہیں اور ان کی طرف سے بھی جن کے باپ شہید ہوئے اور وہ تو فرضی جرم میں کہ انہوں نے بم چلایا ہے اور بعض آدمیوں کو قتل کیا ہے، دہشت گردی کے فرضی جرم میں بھی اور قتل کے فرضی جرم میں بھی ملوث ہو کر قید خانے میں پڑے ہوئے ہیں یعنی ان کے باپ کو شہید کر دیا گیا اور بچوں کو قید میں ڈال دیا گیا کہ تم دوسروں کے قاتل ہو۔جس ملک میں یہ حال ہے اس ملک کے احمدیوں کا کیا حال ہوگا۔اس کا یہاں چند نمونے آپ نے دیکھتے ہیں ان کے ذریعہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے ، ان میں کوئی نسبت نہیں ہے، اس لئے ان کو نہ بھولیں۔یہ چھوٹے چھوٹے واقعات یہاں رونما ہوئے ہیں ان میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ اپنے بھائیوں کی تکلیف کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔آپ کو یاد کرایا گیا ہے کہ ان کے لئے گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں کرنے کا آپ پر کتنا فرض عائد ہوتا ہے۔کبھی بھی ان کو نہ بھولیں اپنے