خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 710 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 710

خطبات طاہر جلدم 710 خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھانا۔اس مقدس رسول کے نام پر انہوں نے ایک احمدی خاتون پر بھی ہاتھ اٹھائے ، بچوں کو بھی خدمت اسلام کے سبق سکھائے اور ایسا ایک مکر وہ نظارہ وہاں پیش کیا گیا کہ جس کے نتیجہ میں وہ عیسائی جو اسلام کے کچھ قریب آرہے تھے بلک گئے اور قریب آنے کے بجائے متنفر ہو گئے۔یہاں تک کہ کسی نے مجھے فون پر یہاں یہ اطلاع دی ایک عیسائی عورت جس نے یہ نظارہ دیکھا تھا اس قدر جوش میں تھی اس نے یہ کہا کہ آج ہم نے اسلام کی اصل روح دیکھ لی ہے۔ایسا مکروہ، ایسا خوفناک انسانیت کش نظارہ دیکھا ہے کہ ہم شکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عیسائی پیدا کیا ہے اور اسلامی ملک میں پیدا نہیں کیا۔یہ ان کی تبلیغ اسلام ہے، یہ اس کے نتائج نکلے ہیں۔اس تصادم میں دو گروہ تھے ایک تو وہ جن کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اسلام کی طرف منسوب ہو کر اسلام کے پاک نام کو بدنام کرنے کے لئے جو کچھ ان سے ہوسکتا تھا انہوں نے کیا، دوسری طرف یہ چند ایسے نوجوان تھے یا عورتیں اور بچے جو اس سے پہلے بھی خدا کے فضل سے عبادت گزار اور تہجد گزار، خدا کے نام پر لوگوں کو بلانے والے، دن رات اللہ کا ذکر کرنے والے اور اس واقعہ کے بعد بھی ان کی کیفیت اسی رنگ میں اور بھی ترقی کر گئی۔پہلے سے بڑھ کر وہ ذکر الہی میں مشغول ہو گئے ، پہلے سے بڑھ کر ان کے ایمان کو اللہ تعالیٰ نے جلا بخشی اور وہ جو نو مسلم خاتون ہیں جب میں نے ان کا حال پوچھنے کے لئے فون کیا تو وہ اتنا خوش تھیں۔انہوں نے کہا آپ اندازہ نہیں کر سکتے میرے ایمان کو کتنی تقویت نصیب ہوئی ہے، میں نے اللہ کا کتنا شکر کیا ہے کہ میں بھی خدا کے نام پر دکھ اٹھانے والوں میں شامل ہوگئی اور میرے بچے بھی شامل ہو گئے اور وہ نومسلم جوڑا جس نے چند دن ہوئے بیعت کی ہےان میں سے خاتون تو نہیں تھیں ان کے خاوند اس وقت موجود تھے، کہتے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ خوشی سے ان کی مسکراہٹیں ہی نہیں ختم ہور ہیں۔کہتے ہیں دیکھو اللہ کا فضل ہے کہ میرے ایمان کو اتنی جلدی خدا نے آزما بھی لیا اور تقویت بھی بخش دی اور مجھے ایمان کا ایک نیا مقام بھی عطا کیا ہے۔تو ایک طرف وہ گروہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے پایا میں نہیں جانتا کہ ان کو اس کا احساس بھی ہے کہ نہیں لیکن جو اس چھوٹے سے گروہ نے پایا وہ میں جانتا ہوں جو کچھ ان سے وہ چھینے کے لئے آئے تھے وہ اس سے بڑھ کر ان کو عطا کر گئے ، جس نعمت سے محروم کرنے کے لئے آئے تھے اس نعمت سے وہ مزید مالا مال ہو گئے ، جس راہ حق سے ہٹانے کے لئے آئے تھے اس راہ پر زیادہ مستعدی اور