خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 64

خطبات طاہر جلدم 64 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء تو ان کے گندے لٹریچر کے جواب کو ہر جگہ پہنچائیں گے اور پاکستان میں بھی پہنچائیں گے انشاء اللہ تعالی۔دنیا کی کوئی طاقت جماعت احمدیہ کی ترقی کو روک نہیں سکتی کیونکہ یہ خدا کی قائم کردہ جماعت ہے۔رہا یہ سوال کہ جماعت احمدیہ کے خلاف یہ حالات کب تک رہیں گے تو جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے اس کے متعلق تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے لیکن میں صرف اتنا کہہ کر آج کا یہ خطبہ ختم کروں گا کہ بعض لوگوں کے خطوط سے کچھ مایوسی کا سارنگ جھلک رہا ہے جو مجھے بہت تکلیف دیتا ہے۔مایوسی تو نہیں کہنا چاہئے مایوسی کے سوا کوئی اور نام ہونا چاہئے کیونکہ ایسے احباب خدا کی رحمت سے مایوس تو نہیں ہیں لیکن جو نتیجہ وہ نکال رہے ہیں اس میں بہت جلدی کی جاری رہی ہے، بڑی عجلت سے کام لیا جا رہا ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ تقدیر گذشتہ مخالفتوں سے اس رنگ میں بھی مختلف ہے کہ اب غالبا اس ملک سے ہمارے مرکز کو ہجرت کرنی پڑے گی اور مشکلات کا ایک لمبا عرصہ سامنے ہے۔بایں ہمہ وہ یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں عظیم الشان فتوحات نصیب ہوں گی جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں یہ نتیجہ بہت جلدی نکال لیا گیا ہے۔میں تو بالکل یہ نتیجہ نکالنے پر رضا مند نہیں ہوں۔ویسے یہ کہنا صحیح ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دُہرایا کرتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ لفظاً لفظ دہرائی جاتی ہے کہ گویا وہی شکلیں ، وہی صورتیں ، وہی نام سو فیصد ظاہر ہو جائیں۔تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن اصولوں کے طور پر دُہراتی ہے اور وہ اصول قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے محفوظ فرما دیئے ہیں۔پس وہ اصول تو ضرور دہرائے جائیں گے کیونکہ وہ سنت اللہ کہلاتے ہیں اور سنت انبیاء بن جایا کرتے ہیں۔لیکن ان اصولوں کے نقوش مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔یعنی عملاً وہ جس طرح جاری ہوں اُسی طرح ان کی شکلیں بدل سکتی ہیں اور پھر یہ فیصلہ کر لیا کہ اب یہ واقعہ یوں ظاہر ہو گیا ہے، یہ تو صحیح نہیں۔کیونکہ جب تک اللہ تعالی خود واضح طور پر خبر نہ دے دے یا تقدیر اس طرح کھل کر سامنے نہ آجائے کہ اُسے تسلیم کئے بغیر چارہ نہ ہو، اس میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔خدا کی کسی تقدیر سے مفر نہیں۔خدا کی کسی تقدیر سے ہم ناراض نہیں ہو سکتے لیکن اس کے باوجود میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ اس فیصلہ میں جلدی نہ کریں کیونکہ جب آپ یہ فیصلہ کریں گے تو آپ کی دعاؤں میں کم ہمتی آجائے گی ، آپ کی دعاؤں کی بے قراری کچھ کم ہو جائے گی۔آپ سمجھیں