خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 63

خطبات طاہر جلدم 63 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء دلچسپیوں میں محو ہوتے ہیں۔یورپ اور امریکہ کے عیش وعشرت سے آنکھیں بند کر کے اور اپنے مفادات سے منہ موڑ کر جماعت احمدیہ کے متعلق یک طرفہ اور جھوٹی باتیں پڑھنے میں وہ کیوں وقت ضائع کریں۔جولوگ ڈپلومیٹک ( Diplomatic) سروس میں رہ چکے ہیں ان کو پتہ ہے کہ باہر سفارت خانوں میں ہوتا کیا ہے اور اس قسم کے لٹریچر کی حیثیت کیا ہوتی ہے۔صرف ٹائٹل پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالتے ہیں اور بس۔لیکن اس کے ساتھ ایک قسم کی یاددہانی ہو جاتی ہے کہ جماعت احمد یہ بھی ضرور کوئی قابل توجہ جماعت ہے پس ہمارے خلاف چھپنے والے لٹریچر کی اس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں یا پھر وہ جلتا ہے تو کوئی چائے گرم کر لیتا ہوگا یا ہا تھ سینک لیتا ہوگا۔پس حکومتِ وقت کی طرف سے نہایت ہی گندہ اور مکروہ شکل کا لٹریچر با قاعدہ خرید کر باہر کے سفارت خانوں کو بھجوایا جا رہا ہے اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ عظیم الشان کارنامہ سرانجام دے رہے ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ اس قسم کے لٹریچر کا بھی جواب دیا جائے گا۔ویسے بیشتر جوابات تیار ہو چکے ہیں۔لیکن جہاں تک خطبات کا تعلق ہے ان میں بہت سی ضروریات پیدا ہوتی رہتی ہیں اس لئے تسلسل لازماً تو ڑنا پڑے گا۔لیکن جہاں تک خدا توفیق دے کچھ حصہ خطبات کی شکل میں اور کچھ حصہ نسبتا لمبی تقریروں کی صورت میں میں بیان کروں گا۔اور وہ جو موقع ہاتھ سے نکل گیا تھا کہ ساری دنیا تک اپنی بات ایک مناظرہ کی شکل میں پہنچائی جائے اور یہ بتا کر پہنچائی جائے کہ حکومتِ پاکستان کا یہ مطلب تھا، یہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر وہ ہمیں کا فرسمجھتے ہیں یا غیر مسلم سمجھتے ہیں۔چونکہ پہلے تو وہ وجوہات ہم بتا ہی نہیں سکتے تھے۔قانون نے ہمارے ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور ہم اپنے وعدہ کے پکے ہیں اس لئے ہم مجبور تھے ہم اپنے جواب شائع نہیں کر سکتے تھے۔اب اُس پر موجودہ حکومت کی مہر لگ گئی ہے۔انہوں نے اپنا موقف بتا دیا ہے۔اب ہمارا جو موقف ہے وہ ہم ہی بتائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ اور جس رنگ میں چاہیں گے بتائیں گے اور ساری دنیا کو بتائیں گے اور ہر زبان میں بتائیں گے۔یہ تو مقابلہ کر ہی نہیں سکتے ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔دلائل کے سامنے اگر ٹھہر نا ہوتا تو اپنے ملک میں ہمیں دفاع کا موقع نہ دے دیتے ؟ دلائل کے سامنے ٹھہر نے کا حوصلہ ہوتا تو ہماری کتابیں ضبط کرنے کی کیا ضرورت تھی۔یہ بُزدل گروہ ہے۔ان کے تو پاؤں ہی کوئی نہیں۔ان میں ادنی سی بھی جرات ہوتی تو جماعت کو موقع دیتے کہ وہ بھی جواب دے۔لیکن موقع تو ہم سے چھین نہیں سکتے۔ہم