خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 702
خطبات طاہر جلدم 702 خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۸۵ء چنانچہ ہمارے علم میں ہے کہ سی۔آئی۔ڈی کی طرف سے مسلسل ایسی رپورٹیں بھجوائی جاتی رہی ہیں کہ جماعت احمد یہ یہ باتیں کرتی ہے کہ تمہاری مدت آٹھ سال کی ہے اس سے زیادہ آگے نہیں چلو گے۔باوجود اس کے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں کوئی نام نہیں تھا، کوئی زمانے کی تعیین نہیں تھی لیکن جو ظلموں سے بیچارے ستائے گئے ہوں وہ ڈھونڈتے ہیں سہارے، تلاش کرتے ہیں وہ جگہیں جہاں امکانی طور پر ایک ذکر موجود ہو۔تو ہوسکتا ہے کہ احمدی یقیناً کرتے ہوں گے۔میرے علم میں ہے بعض دفعہ مجھے بھی یہ خیال گزرا کہ یہ کوئی بعید نہیں کہ اس زمانے کے حالات پر چسپاں ہونے والی پیش گوئی ہو۔تو اس میں تو کسی احمدی کا قصور نہیں ہے۔جس بیچارے کو ستایا جا رہا ہے، مارا جا رہا ہے، لوٹا جا رہا ہے، زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے، اپنے ہی ہم وطنوں کے ذریعہ اسے وطن کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے اور مروایا جا رہا ہے اور پھر سر براہ مملکت ہوتے ہوئے یہ بجائے اس کے کہ اُن کے حقوق کی حفاظت کریں ان کے حقوق کی خاطر انصاف کی خاطر وہ ان کے دشمنوں سے خود ٹکر لیں ان پر دشمن آزاد چھوڑے جا رہے ہیں ان کی طرف سے اور یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ وطن کے دشمن ہیں ، اتنی مظلومیت کی حالت کے باوجود اگر منہ سے ایک فقرہ نہ نکلے تو پھر تعجب کی بات ہے۔تو ہر گز اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یہ اندازے تھے اور ہوسکتا ہے کہ خاموشی کی بھی یہی وجہ ہو کیونکہ مذہبی دنیا میں یہ واقعہ ایک دفعہ نہیں بیسیوں مرتبہ ہو چکا ہے کہ بعض اوقات بعض خدا کے بندوں کے دشمن اندرونی خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ ڈر جاتے ہیں کہ ہو سکتا ہے واقعہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کی تقدیر واقعی ان کے حق میں اور میرے خلاف ظاہر ہو اور بڑے بڑے سرکش بھی مخالفین ایسے ہیں جن کی تاریخ کو قرآن نے محفوظ کیا ہے۔ان کے زمانوں میں ایسا ہوتا رہا کچھ دیر خاموشی رہی کچھ دیر تبدیلی کے آثار ہوئے پھر دلیر ہو گئے اور پھر بے دھڑک ہو کر انہی مظالم میں مبتلا ہو گئے جو پہلے کیا کرتے تھے انہی مظالم کو توڑنے لگے دوسروں پر جو پہلے تو ڑا کرتے تھے۔تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا ہوا اور کیوں خاموشی تھی اور کیوں خاموشی توڑی گئی؟ بہر حال دنیاوی وجو ہات تو ہمارے سامنے ہیں وہی کافی ہیں اس کی توجیہ کے لئے کہ کیوں خاموشی اختیار کی گئی ایک وقت تک۔