خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 701
خطبات طاہر جلدم 701 خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۸۵ء سکتا جو اپنے منہ سے اقرار کرتا ہے کہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے لوگوں سے خدا کلام کر سکے۔تو دوسرے کی کمزوروی کا اثبات تم کر سکو یا نہ کر سکو اپنی کمزوری کا اقرار تم نے بہر حال کر لیا۔پس یہ تو بہر حال درست نہیں کہ ایسے لوگ جو خدا سے ہم کلام ہونے کا دعوی کریں، یہ دعویٰ کریں کہ اللہ نے ان سے کلام کیا ہے ان کو اشر قرار دیا جائے یعنی باغی جو غیروں پر بزور قابض ہو جائیں اور ناحق قابض ہو جائیں کیونکہ ان کے ساتھ بغاوت کی دوسری علامتیں بھی نہیں ہوتیں۔بغاوت کے لئے جو طاقت چاہئے ، بغاوت کے لئے جو جتھہ چاہئے ، بغاوت کے لئے جو دنیاوی سامان چاہئیں وہ ان سے بھی عاری ہوتے ہیں۔تو کسی نقطہ نگاہ سے دیکھو وہ لوگ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں اور خدا سے ہمکلام ہونے کا دعوے کرتے ہیں۔ان پر یہ کسی پہلو سے بھی الزام نہیں لگ سکتا کہ وہ ائیر ہیں یعنی سوسائٹی کا کینسر ہیں لیکن الزام لگانے والے اگر اپنے حالات پر غور کریں اور تجزیہ کریں تو بعینہ ان پر یہ مثال صادق آتی ہے۔جسم کا ایک حصہ دوسرے حصے کو کمزور دیکھ کر اس پر قابض ہو جائے اور اس کے تمام اقتصادی چینلز (Channels ) پر قبضہ کر لے۔وہ صالح خون جس قوم کے عوام الناس کے جسموں میں دوڑنا چاہئے وہ چند قابضوں کے جسم کی رگوں میں دوڑنا شروع کر دے اور Vampire ( ومپائر ) کی طرح وہ ساری قوم کو چوسنے لگ جائے۔اس کو اشر کہتے ہیں۔بس دعوے تمہارے کچھ اور ہیں واقعات اور حالات جو قطعی طور پر ثابت کر رہے ہیں وہ بالکل کچھ اور بات کو ثابت کر رہے ہیں۔بہر حال جو کچھ بھی کہو میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا تو کل کسی دنیا کے سہارے پر نہیں۔صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر ہمارا تو کل ہے۔کچھ احمدی بے چین ہیں، کچھ احمدی بے قرار ہیں کہ دیر ہورہی ہے۔وقت کے مالک تم تو نہیں ہو وقت کا مالک تو ہمارا خدا ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کہ کس وقت کس تقدیر کو ظاہر فرمانا ہے اور یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ کچھ دیر خاموشی کیوں اختیار کی گئی اور پھر ایک دم اس خاموشی کو کیوں تو ڑا گیا کہ جس خدا کی تقدیر کے متعلق باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ نازل ہونے والی ہے وہ بظاہر نازل نہیں ہوئی۔