خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 700
خطبات طاہر جلدم 700 خطبه جمعه ۱۶ ار ا گست ۱۹۸۵ء بچانے کی کوشش کرتے ہیں وہ مغلوب ہوتا ہے کسی اور بیماری سے لیکن کینسر میں یہ فرق ہے که یه خود صحت مند حصے کو مغلوب کر رہا ہوتا ہے۔یعنی جسم کا اپنا ایک حصہ ہے لیکن ان کا خون چوس کر خود بڑھ رہا ہے ان کی دوسری طاقتوں کو غصب کر رہا ہے اور وہ بیچارے صحت مند اجزاء جو اپنا دفاع نہیں کر سکتے اُن پر یہ غالب آ جاتا ہے اور ان کا خون چوستا چلا جاتا ہے۔تو یہ بغاوت ہے جس کو انگریزی زبان میں اصطلاحاً کینسر کہا جاتا ہے یعنی جسمانی بغاوت اور روحانی لحاظ سے ایسے شخص کا نام اشر رکھا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہوئے تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کو اور صالحین کو ایک ہی قرار دیا تھا یعنی کینسر سوسائٹی کا۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے خمود کی قوم میں سے ایک نے کہا یا شمود کی قوم نے صالح کو مخاطب ہو کر کہا الْقِي الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ آشر ( القمر : ۲۶) کیا ہم جیسے لوگوں میں خدا کا ذکر چل پڑے اور خدا کا ذکر اتارا جائے ہمارے جیسے لوگوں پر ! ہم جانتے ہیں اپنی سوسائٹی کے حال! ہو کیسے سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کلام کرے اور ہم جیسے لوگوں میں سے کسی سے کلام کرے یہ مِنْ بيننا نے ان کی سوسائٹی کی قلعی کھول دی۔یعنی ہم جتنے صالح ہیں ہمیں پتہ ہے کہ کتنے صالح ہیں۔جو ہمارا حال ہے تقدس کا وہ ہم جانتے ہیں اور ہم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور یہ دعوی کر رہا ہے مجھ پر تم لوگوں کے درمیان اللہ کا ذکر اتارا جارہا ہے، یہ نہیں ہو سکتا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِر نہیں نہیں بلکہ یہ تو بہت سخت جھوٹا ہے اور امیر ہے، باغی ہے، سوسائٹی کا کینسر ہے، یہ تمہیں کھا جائے گا، تمہارا خون چوس جائے گا اور بیمار حصہ کے ہونے کے باوجود یہ صحت مند حصہ پر قبضہ کر جائے گا، تو اسی کو کینسر کہتے ہیں۔لیکن ساتھ ہی اس آیت کے پہلے حصہ نے بتا دیا کہ ان کی دلیل بالکل بودی اور بے معنی ہے اور اس کے اندر ہی اس کی اپنی شکست کے سامان موجود ہیں۔جس سوسائٹی کا یہ حال ہو کہ لقائے باری تعالیٰ سے مایوس ہو چکی ہو جو اس بات کو تعجب سے دیکھے کہ خدا کا کلام نازل ہوسکتا ہے اس زمانے میں کسی انسان پر ، اُس سوسائٹی کا یہ کہنے کا حق نہیں کہ ہم صالح ہیں اور تم غیر صالح ہو۔صالح تو وہی ہوگا جس سے خدا کلام کرسکتا ہے، وہ تو صالح نہیں کہلا