خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 696
خطبات طاہر جلد۴ 696 خطبه جمعه ۶ ار ا گست ۱۹۸۵ء جب یہ قتل و غارت کی تعلیم دیتے ہیں تو اس کا جواب ایک یہ ہوسکتا ہے کہ ہم بھی قتل و غارت کریں قرآن اس کی اجازت نہیں دیتا۔جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک با قاعدہ اذن نہ آئے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اس زمانے میں اس کا کوئی سوال نہیں ہے اس لئے بغیر کسی اذن الہی کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھانا بھی منع ہے اسلام میں۔جب تک قرآن کریم میں أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج:۴۰) کا فرمان نازل نہیں ہوا اُس وقت تک مومنوں کی جماعت مظلومیت کے دور میں رہی۔تیرہ سال تک شدید مظالم کا سامنا کیا ہے لیکن ہرگز آنحضور ﷺ نے ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اس کا وہم بھی دل میں نہ کریں کہ آج یا کل مسلمانوں کے مقابل پر خواہ وہ کیسے ہی ظلم کی راہ اختیار کریں آپ کو اجازت مل سکتی ہے۔اگر ایسی اجازت ملنی ہوتی تو اس دور کا نام مسیحیت کا دور نہ رکھا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مسیح کا لقب دینے میں یہ حکمت ہے کہ آپ کو بتایا جائے کہ آپ کو ایک دو نسلوں کے لئے نہیں سینکڑوں سال کے لئے بھی اگر آپ کو مظالم برداشت کرنا پڑیں تو آپ اس کے لئے تیار ہو جائیں اور ظلم کا جواب عفو سے تو دینا ہے ظلم کا جواب اینٹ اور پتھر سے نہیں دینا۔انفرادی دفاع ایک بالکل اور مسئلہ ہے۔جب ایک آدمی حملہ کرتا ہے تو انفرادی طور پر دفاع کیا جاتا ہے۔اس چیز کی دنیا کا ہر قانون اجازت دیتا ہے یعنی ہر شریف ملک کا قانون اجازت دیتا ہے لیکن قومی طور پر لڑائی کی حالت اختیار کر جانا یہ اور بات ہے۔میں اس وقت اس کی بحث کر رہا ہوں۔تو تبلیغ کے ذریعہ ہم نے اپنا انتقام لینا ہے۔ہمارا ایک سر کاٹا جاتا ہے تو ان کا سر کاٹ کر نہیں ان کے سر قبول کر کے محبت کے ساتھ ، ان کی تعداد کو اپنا کر اس میں کمی پیدا کرنی ہے۔ایک احمدی کو یقتل کے ذریعہ کم کرتے ہیں تو آپ ہزار غیر احمد یوں کو احمدی بنا کران میں کمی پیدا کریں، یہ انتقام ہے آپ کا۔یہ وہ انتقام ہے جو ہم نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ سے سیکھا ہے۔یہ وہ انتقام ہے جو آنحضور علیہ نے ابو جہل سے لیا تھا ، اس کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا، جو ولید سے لیا تھا اُس کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ایک جگہ نہیں ، دو جگہ نہیں،