خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 692

خطبات طاہر جلدم 692 خطبه جمعه ۶ ار ا گست ۱۹۸۵ء تضاد تھا جس کی طرف سے توجہ دوسری طرف مبذول کرانا پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہو چکا تھا اور اس کے لئے سب سے مظلوم یا دنیا کے لحاظ سے کمزور جماعت جو مجھی گئی وہ جماعت احمدیہ تھی۔اس لئے یہ بات بڑی واضح ہے کہ کیوں دوبارہ ایک باسی کڑھی میں ابال آیا ہے۔مظالم کو دوسری سرزمینوں میں منتقل کرنا بھی ایک مقصد تھا۔چنانچہ محض اس کانفرنس کا یہ مقصد نہیں تھا کہ انگلستان میں منعقد کر دی جائے تاکہ پہلی سنی کانفرنس کا اثر تو ڑا جائے بلکہ پالیسی ہے یہ کہ دیگر ممالک میں ہر جگہ اس قسم کا نفرنسیں منعقد کی جائیں اور اشتعال انگیزی کو غیر سر زمینوں میں منتقل کیا جائے۔اس میں ایک حکمت اور بھی ہے یعنی جو ان کے مقاصد ہیں ان مقاصد میں ایک یہ حکمت بھی ہے کہ جماعت احمد یہ تمام دنیا میں یہ بڑی شدت کے ساتھ آواز اٹھا رہی ہے کہ پاکستان کا ایک فوجی آمر لکھو کھیا معصوم ہم وطنوں پر ظلم کر رہا ہے اور کرتا چلا جارہا ہے اور باز نہیں آرہا۔اس آواز کا دنیا پر غیر معمولی اثر ہے اور دن بدن زیادہ سے زیادہ حکومتیں اس بات کی قائل ہوتی چلی جارہی ہیں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت ظالم ہے۔اس کا جواب دو طرح سے حکومت پاکستان کے موجودہ آمروں نے دینے کی کوشش کی۔پہلے یہ حرکت کی کہ اس مسئلہ کو مخلوط اور مبہم کرنے کی کوشش کی گئی اور باہر کے پاکستانیوں پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ مسئلہ احمد بیت بمقابل پاکستان کا ہے، احمدی پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں اور وہ سیاسی تحریکات جو غیر ملکی پاکستانیوں میں موجودہ فوجی آمر کے خلاف اٹھ رہی تھیں ان کا رخ بدلا گیا اور نادانی سے ، نا سمجھی سے بہت سے سادہ لوح پاکستانی واقعہ اس لحاظ سے ان کے دھوکے میں آگئے اور کئی جگہ ہمیں بڑی محنت کرنی پڑی اس غلط خیال کو دل سے نکالنے کے لئے کہ پاکستان کے ساتھ جماعت احمدیہ کی دشمنی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سب سے زیادہ محب وطن ہم ہیں خدا کے فضل کے ساتھ تمہارے مظالم سہنے کے باوجود آج بھی اگر پاکستان کو کوئی خطرہ ہو تو سب سے زیادہ قربانی کرنے والے پاکستان کے احمدی ہوں گے اور تمام دنیا میں پاکستان کا جھنڈا بلند کرنے میں جتنا کردار احمدیت نے ادا کیا ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی مذہبی جماعت کو حاصل نہیں تم میں سے، سوواں حصہ بھی حاصل نہیں۔ایک مذہبی جماعت بتاؤ جس نے ساری دنیا میں پاکستان کے حق میں آواز بلند کی ہو، جب بھی پاکستان کو خطرہ ہو پاکستان کے حق میں آواز بلند کی ہو، جب خطرہ نہ بھی ہو تب بھی پاکستان کا نام بلند کرنے کے لئے حتی المقدور کوشش کی