خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 690 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 690

خطبات طاہر جلدیم 690 خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۸۵ء کھلم کھلا اس ملک کے قوانین کو توڑا گیا اور نام لے لے کر قتل کی تلقین کی گئی محض عمومی اشتعال انگیزی ہی سے کام نہیں لیا گیا بلکہ ایک مذہبی رہنما کا نام لے کر کھلم کھلا اس کے قتل کی تلقین کی گئی اور جوش دلایا گیا اور اس قانون شکنی کے باجود اس امر سے آنکھیں بند کر لی گئیں حالانکہ یہ حکومت قانون کا بہت لحاظ کرنے والی حکومت ہے۔تو جن قوتوں کی ملی بھگت پہلے مخفی ہوا کرتی تھی اب وہ کھل کر سامنے آگئی ہے۔جہاں تک مقاصد کا تعلق ہے وہ مختلف ہوں گے لیکن نشانہ جماعت احمد یہ ہی ہے۔سعودی عرب کا جہاں تک تعلق ہے اس کے مقاصد کے تجزیہ میں میں زیادہ وقت نہیں لوں گا۔مختصر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس سے پہلے یہاں ایک حجاز کا نفرنس منعقد کی گئی تھی جس میں اہل سنت کے سواد اعظم نے بہت پر زور تقاریر کیں اور بہت زیادہ اس بات کو اچھالا کہ سعودی عرب و ہابیت کو دنیا میں نافذ کرنے کی سازش کر رہی ہے اور اپنے مالی وسائل سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر بھی اس کو مسلط کرنا چاہتی ہے اور دیگر اسلامی ممالک پر بھی وہابیت کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔اس لئے عالم اسلام کے سواد اعظم کو ایک بڑا بھاری خطرہ درپیش ہے۔اہل سنت اگر بیدار نہ ہوئے اور بر وقت اس خطرے کا مقابلہ نہ کیا تو پھر ہو سکتا ہے پانی سر سے گزر جائے، یہ خلاصہ تھا ان کی تقاریر کا۔زبان ان کی بھی بسا اوقات تہذیب سے گری ہوئی شائستگی سے دور ہو جاتی تھی مگر مضمون یہی تھا جو میں نے بیان کیا ہے۔تو اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی اور طریق نہیں ہوسکتا تھا کہ مسلمانوں کی توجہ یعنی غیر احمدی مسلمانوں کی توجہ احمدیوں کی طرف مبذول کروائی جائے اور ان کے اشتعال کا رخ احمدیت کی طرف پھیر دیا جائے اور اگر سُنی علماء اس میں ساتھ شامل نہ ہوں تو ان کو احمدیت کے حمایتی کے طور پر بدنام کیا جائے اور اگر وہ شامل ہو جائیں تو ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور بہر حال اس مہم کا سہر وہابی علماء کے سر پر ہی رہے گا۔تو یہ بہت ہی حکیمانہ جواب تھا ان کی طرف سے اگر چہ اخلاقی اور مذہبی اقدار سے اس کو کوئی بھی جواز حاصل نہ ہو مگر ایک سیاست کے نقطہ نگاہ سے ایک بڑی حکیمانہ چال تھی۔دوسری وجہ اس کی ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان میں واقعہ وہابیت کو فروغ دینے پر بہت لمبے عرصہ سے خرچ کیا جا رہا ہے۔پہلے اسلامی جماعت کے نام پر وہابیت کو فروغ دیا گیا۔وہ ایک سیاسی لبادہ اوڑھ کر مذہبی جماعت تھی جس کی باگ ڈور کلیہ ہمیشہ وہابیوں اور دیو بندیوں کے ہاتھ میں رہی