خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 676
خطبات طاہر جلد۴ 676 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء جن کو انسان کا خون لگا ہو وہ تو اپنے غار میں اور اپنے ماحول میں اس قدر خطرناک حیثیت اختیار کر جاتے ہیں کہ بعض طاقتور جانور بھی پاس سے نہیں گزر سکتے ۔ تو ان کا یہاں آکر یہ حال تھا اپنے وطن میں یہ ہمارے متعلق کیا کیا باتیں کرتے ہوں گے اور کیسے کیسے ان کے مطالبے ہوں گے۔ یہ باتیں جو پہلے لوگ نہیں مانا کرتے تھے اب مان گئے اور ایسی پاکستان کی بدنامی کروائی ہے اور ایسی اسلام کی انہوں نے بدنامی کروائی ہے کہ سوچ کے شرم آتی ہے۔ پہلے خمینی صاحب کے قصے چلا کرتے تھے اب کچھ عرصہ اس ملک میں ان مولویوں کے قصے چلیں گے یعنی کئی خمینی طاقت میں آگئے ہیں اور کئی خمینی ہیں جن کو طاقت نصیب نہیں ہوئی ورنہ بیچ میں سب کا وہی حال ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ خمینی صاحب ایک مہذب انسان ہیں وہ فحش کلامی نہیں کرتے ۔ وہ بعض اصولوں پر اصولوں پر قائم ہیں اور بعض اصولوں کے قائل ہیں وہ اصول سخت ہیں ملائیت کی وجہ سے لیکن ان پر وہ عمل بڑی دیانت داری سے کرواتے ہیں جو کہتے ہیں وہ کرتے ضرور ہیں۔ اور ان مولویوں کا یہ حال ہے کہ کہتے رہے یہاں ہر ایک کو کہ خوب قتل کرو اور بالکل نہیں ڈرنا اور ایک احمدی کو بھی مولوی نے قتل نہیں کیا کبھی جرات نہیں ہے، لوگوں سے مرواتے پھرتے ہیں ۔ اگر ایسی ہی آسان جنت ہے کہ پاکستان میں تو یہاں تک بھی کہنے والے تھے کہ نعوذ بالله صلى الله من ذلک آنحضرت علای خود جنت میں استقبال کے لئے آئیں گے کہ گے کہ مرزائی کو مار کے آیا کو مار کے آیا ہے اور کہتے ہیں کچھ نہیں پوچھیں گے نمازیں پڑھتے تھے کہ نہیں ، فاسق فاجر تھے کہ نہیں ، قرآن کریم نے جو احکام دیتے ہیں ان پر عمل کرتے تھے اور جن باتوں سے منع فرمایا ہے ان سے رکھتے تھے، یا نہیں رکتے تھے۔ کہتے ہیں کوئی سوال نہیں ، ساری عمر تمہاری بدکاریوں میں گذر چکی ہوا ایک مرزائی کو قتل کرو اور اگر اس کے نتیجہ میں مارے جاؤ تو پھر دیکھنا قیامت کے دن تمہارے ساتھ کیا ہوتی ہے نعوذ بالله من ذلک حضرت اقدس محمد مصطفیٰ استقبال کریں گے ۔ یہ ان مولویوں کے تصورات ہیں اور یہ وہ صلى الله عروسه دین لے کر یہاں پہنچے اپنا نعوذ بالله من ذالک ۔ تو آپ اندازہ کریں کہ کس قدر اسلام کی اور پاکستان کی انہوں نے بدنامی کرائی ہوگی ۔ افسوس ہے اور حسرت ہے کہ رحمت للعالمین کے نام پر یہ وہاں سے آئے تھے اور نفرتوں کے سفیر بن کے چلے گئے ۔ افسوس ہے اور حسرت ہے کہ سلامتی اور امن کے پیغمبر کے نام پر وہاں سے