خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 675 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 675

خطبات طاہر جلدم 675 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء باہر کی آزاد و نیا پہلے ہمارے منہ سے سنتی تھی کہ اس قسم کے مولوی وہاں ہیں اور نہ عقلیں ہیں ان کو ، نہ انسانیت کے توازن ان کے اندر ہیں ، نہ دین جو اخلاق پیدا کرتا ہے وہ ان کے اندر ہے۔ہر قسم کی اعلیٰ صفات سے قریباً قریباً عاری بیٹھے ہوئے ہیں یعنی وہ مولوی جو جماعت احمدیہ کی مخالفت میں آگے ہیں اور جو ان میں سے شرفاء ہیں ان کو زبان نہیں۔عجیب ملک کی حالت ہے بیچارے کی، شرفاء کی کثرت ہے اس کے باوجو دوہاں شرافت گوگی بیٹھی ہوئی ہے اور جو چند نمونے ہیں بولنے والے ان کا یہ حال ہے جو آپ جانتے ہیں تو ہم کہتے تھے تو لوگ مانا نہیں کرتے تھے کہ کیسے ہوسکتا ہے دلیلیں دینی پڑتی تھیں، بعض اقتباسات اخبارات کے بھی دکھانے پڑتے تھے لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو کہ کس قسم کا مولوی ہے جس سے ہمیں رابطہ ہے، جس سے ہمیں واسطہ پڑا ہوا ہے اس کا اثر ہی اور ہوتا ہے۔لَيْسَ الْخَبُرُ كَالْمُعَايَنَة (مسند احمد حدیث نمبر : ۱۷۴۵) دور کی باتیں سنا اور بات ہے آنکھوں سے دیکھ لینا کسی مولوی کو اور اس کی باتیں سن لینا اپنے سامنے رو برو یہ بالکل اور بات ہے۔چنانچہ ہر جگہ خوب پھرے ہیں اور ایسا گندارد عمل انہوں نے پیدا کیا ہے کہ سارا ملک بدنام ہو گیا ہے یہ وہ معززین ہیں جن کے پیچھے ساری حکومت ہے، جن کی خاطر حکم دیا جاتا ہے سفیر پاکستان کو کہ جا کر ان کی مجلس میں بیٹھو۔مجھے تو بے چارے کی شکل دیکھ کر رحم آ رہا تھا۔ہمارے سفیر صاحب بڑے معزز شریف آدمی ہیں کس مصیبت میں مبتلا بیٹھے ہوئے تھے وہاں۔تو بہ کرتے ہوں گے واپس جا کے کہ میں کہاں پھنس گیا تھا لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات والا قصہ تھا۔بیٹھنا ہی پڑا ہے ان کو گند سننے کے لئے۔تو جو پاکستانی شرفاء ہیں ان میں بھی شدید رد عمل ہوا ہے اور جو غیر ہیں ان کو پتہ چلا ہے کہ یہاں بیٹھ کر جو یہ کہ رہے ہیں کہ جنت میں جانا ہے تو ان کے خلیفہ کوقتل کرو اور ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ تم سیدھے جنت میں جاؤ گے اور اگر تم نے جنت میں جانا ہے تو احمد یوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکو، ہرمرد ہر احمدی عورت ، ہر احمدی بچے کو قتل کر دو۔یہاں اس آزاد ملک میں بیٹھ کر جو یہ کہ رہے تھے۔اب ہم ان کو بتا سکتے ہیں کہ ہمارا کیا قصور ہے ، ہم نے جو تمہیں باتیں بتائی تھیں ذرا اندازہ تو کرو کہ ایسے ملک میں جہاں کا بادشاہ ان کی پشت پناہی کر رہا ہو وہاں یہ کیا کچھ کہتے ہوں گے۔جن کا یہاں یہ حال ہے وہاں یہ کیسے کیسے گرجتے ہوں گے۔گھروں میں تو چوہے بھی شیر ہو جایا کرتے ہیں ایسے شکاری جانور