خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 674 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 674

خطبات طاہر جلد۴ 674 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء سنانے نہیں دیتے تم ، کچھ وہاں عام ان پڑھ لوگ اس کثرت سے ہیں بیچارے کہ ان میں مذہبی تعصب کا پایا جانا ایک قدرتی امر ہے اور باہر کی دنیا کی تہذیب و تمدن انہوں نے دیکھے نہیں ہوئے ہوتے۔اب چھوٹے چھوٹے قصبات میں بعض ایسے ہیں جن کی زندگیاں گذر جاتی ہیں بعض اپنے دیہات اپنے ضلعوں سے باہر نہیں جا کر دیکھتے تو اس قسم کے ماحول میں جب مولوی جا کر تقریر میں کرتے ہیں تو چونکہ ان کو خود اپنے دین کا علم نہیں اور دنیا کی شائستگی سے واقف نہیں ہوتے اس لئے وہ بد اثرات قبول بھی کر لیتے ہیں اس کا اظہار بھی اسی طرح کر دیتے ہیں لیکن وہی لوگ جب یہاں مزدوریوں کے لئے آتے ہیں ان پڑھ بھی ہوں تو یہاں آکر ان کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ان کو دنیا میں ایک برابری کا احساس پیدا ہوتا ہے، ان کو محسوس ہوتا ہے کہ انسان ایک دوسرے انسان کے اوپر ویسے کوئی فوقیت نہیں رکھتا بلکہ اپنی قابلیت سے اپنی دلیل سے فوقیت اس کو حاصل کرنی پڑتی ہے، برابر کا مقابلہ ہورہا ہوتا ہے اس وجہ سے ان کی ذہنتیں بدلنے لگتی ہیں۔تو پاکستانی ہی سہی مگر ایک بدلی ہوئی ذہنیت لے کر یہاں پہنچے ہوئے ہیں اور پھر بہت سے ایسے ہیں جو پاکستان سے ہی نہایت ہی سکھی ہوئی ذہنیتیں لے کر آئے تھے کیونکہ بہت سے تعلیم یافتہ لوگ اس وجہ سے سفر کرتے ہیں بیرونی دنیا میں کہ پہلے ہی وہ روشن خیال اور کھلے دماغ کے ہوتے ہیں اور ان کے لئے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔پس Labour ہو یعنی عام مزدوری کرنے والے ہو یا اہل دانش ہوں یہ دونوں جو طبقات یہاں آچکے ہیں وہ ملائیت کو بحیثیت ملائیت قبول نہیں کر سکتے۔ان کے ذہنوں میں اور ملائیت کے اندر ایک دوری پیدا ہو چکی ہے۔تو ہم جو کہا کرتے تھے کہ یہ ہیں تمہارے ملاں شاید وہ بھول چکے ہوں اتنا اثر نہیں پڑتا تھا اور جب دیکھا ہے آنکھوں کے سامنے تو رد عمل پیدا ہوا ہے۔الحمد للہ کہ خدا کے فضل کے ساتھ اس رد عمل سے جماعت احمدیہ پورا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ابھی اٹھاتی چلی جائے گی۔ایک اور بالکل الٹ نتیجہ یہ نکلا ہے یعنی مقاصد جو لے کر آئے تھے اس کے بالکل برعکس یہاں آکر یہ بتانا چاہتے تھے کہ گویا نعوذ باللہ من ذلک جماعت احمدیہ پاکستان کو بدنام کرارہی ہے اور پاکستان کی دشمن ہے۔یہ مولوی جو آئے ہیں پاکستان کی اتنی بدنامی کروا گئے ہیں کہ ان پر وہی مصرعہ صادق آتا ہے کہ : ع ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو