خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 673
خطبات طاہر جلد۴ 673 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء آئیں گے چند دن رونقیں لگا کے، میلے لگا کے واپس چلے جائیں گے اور قطعاً انہوں نے اس کے اوپر کوئی توجہ نہ دی اور جو شامل ہوئے ان میں ایک بہت بڑی تعداد مولویوں کی مولویوں کے سر پرستوں کی یہاں جو مدارس ہیں ان مدارس میں پڑھنے والوں کی ، کچھ جن کو بازاری لوگ کہا جاتا ہے عوامی سطح کے احراری مزاج کے آدمی ہر ملک میں پائے جاتے ہیں اور یہ سارے وہ ہیں جو گھیر گھار کے سب انہوں نے اکٹھے کئے تھے کل دو ہزار دو سو یا اس سے کچھ کم تعدا د بنتی ہے۔ اور گالیاں دینے کے نتیجہ میں انہوں نے جو دوسروں پر اثرات چھوڑے وہ یہ ہیں کہ مولویوں کے خلاف شدید نفرت کا رد عمل پیدا ہوا ہے اور جو پہلے احمدیت سے نا آشنا بھی تھے ان میں ایک بہت بڑی تعداد ہے جس نے توجہ کرنی شروع کر دی ہے اور اب جو توجہ پیدا ہوئی ہے جماعت احمد یہ کے لٹریچر کی طرف، جماعت احمدیہ کے حالات معلوم کرنے کی طرف اس سے پہلے اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی ۔ ایک حصہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے شدید معاندین کا بھی ہے جو لٹریچر پھینک دے گا نہیں پڑھے گا۔ لیکن جو مجھے اطلاعیں مل رہی ہیں بعض جو پہلے شدید معاند بھی تھے ان گالیوں کو سننے کے بعد اب جماعت کی طرف متوجہ ہور ہے ہیں اور خدا کے فضل سے بیعتیں بھی ملنی شروع ہو گئی ہیں ۔ چنانچہ یہ سال جو گذر رہا ہے جس میں علماء نے پروپیگنڈے کئے ہیں انگلستان میں پاکستانیوں کی بیعتوں کے لحاظ سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ گذشتہ دس سال میں یہاں پاکستانیوں نے اتنی بیعتیں نہیں کی تھیں جتنی اس ایک مولویوں والے سال میں کی ہیں۔ تو یہ ان کا نقصان ہے جو انہوں نے ہمیں پہنچایا کہ جو ان کے تھے وہ ہمارے بنتے چلے گئے ۔ جو ان کے مداح تھے یا ان کی خیالی بزرگی سے متاثر تھے وہ ان کی فحش کلامی سن کر ان سے متنفر ہونے لگے اور جن کو احمدیت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی وہ دلچسپی لینے پر مجبور ہو گئے ۔ آخران کو فرق محسوس ہوتا ہے کردار کا ۔ ہر انسان کو خدا تعالیٰ نے یہ فطرت سلیمہ بخشی ہوئی ہے کہ جب وہ اچھی چیز کو دیکھتا ہے تو ضرور دل پر اثر پڑتا ہے اور جب بدی کو دیکھتا ہے تو کچھ نہ کچھ تنافر ضرور پیدا ہوتا ہے خواہ خود بھی بد ہو۔ تو جماعت احمدیہ اور غیر جماعت احمد یہ کی جو ملائیت ہے اس کا موازنہ کرنے کا یہاں موقع ملا ہے۔ دوسرا بھجوانے والوں نے یہ نہیں سوچا اور ان سے بہت بڑی حماقت ہوئی ہے کہ پاکستان کا ماحول اور ہے اور باہر کا ماحول اور ہے ۔ پاکستان میں کچھ حکومت کے جبر ہیں ان کو ہماری بات