خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 672
خطبات طاہر جلدم 672 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء کے ان لوگوں کی عقلیں ماری جاتی ہیں۔قرآن کریم پڑھتے تو ہیں کم از کم چاہے سرسری ہی پڑھتے ہوں یہ واقعات تو ان کے علم میں ہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ پتہ ہی نہ ہو کہ حق کے مخالفین کی دلیلیں کیا تھیں اور بغیر شرمائے وہ ساری دلیلیں اپنا لیں اور حق کے ماننے والوں ،حق کے پرستاروں کی جو دلیل تھی وہ ہمارے لئے رہنے دیں۔اَوَلَوْ كُنَّا کرِ هين (الاعراف : ۸۹) اگر ہمارا دل نہ مانے تمہاری ان باتوں کو تسلیم کرنے پر پھر بھی ہم تمہاری طرف لوٹ آئیں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ایمان تو دل کا قصہ ہے۔مذہب کی تبدیلی یا مذہب پر قائم رہنا تو عقل و دانش سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں۔کیسے ہو سکتا ہے کہ سمجھ نہ آئے اور پھر ہم تمہارے اندر شامل ہو جائیں۔اگر تمہیں منافقین چاہیں تو تمہارے اندر اس کثرت سے پہلے موجود ہیں اور تم نے کیا کرنے ہیں منافقین کہ چند لاکھ اور منافقین شامل ہو جائیں گے تو تمہیں ٹھنڈ پڑ جائے گی ؟ تو اتنی بے معنی ، اتنی لغو باتیں کی گئی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے دیکھ کر کہ کیوں ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اور یہ سوچتے کیوں نہیں کہ اس کا کیا اثر پڑے گا۔بہر حال جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ان دو دلائل کے سوا کوئی دلیل وہاں پیش نہیں کی گئی۔جماعت احمدیہ کے بزرگوں پر گند بولے گئے ہیں، نہایت گندی بہتان تراشی کی گئی ہے اور اسی لغویات اور منخش میں وہ لوگ خود بخود مبتلا ہو کر ایسی ایسی لغو قسمیں کھاتے رہے ہیں کہ کوئی شریف انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور جماعت احمدیہ کو ایک تبلیغی دلیل دی ہے کیسا عمدہ تبلیغ کا ذریعہ ہے یہ سوچیں تو سہی۔مذہب پھیلانے کے لئے کیسی اچھی دلیل ہے کہ یا تم اپنے وطنوں سے نکل جاؤ یا تم ہمارے اندر شامل ہو جاؤ ورنہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔اب اس دلیل کے ساتھ مذہب پھیلانے ہوتے تو مذہب کی تاریخ کا نقشہ بالکل ہی اور ہوتا۔آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ تک کی تاریخ بالکل نئے سرے سے نئی لکھی جاتی۔جہاں تک اثرات کا تعلق ہے ہمارا جائزہ یہ کہتا ہے کہ اکثر غیر احمدی شرفاء اور غیر احمدی شرفاء جب میں اکثر کہتا ہوں تو بھاری تعداد مراد ہے کوئی معمولی نہیں۔) بھاری تعداد ان کی اس میں سرے سے شامل ہی نہیں ہوئی جیسا کہ اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے اور انہوں نے اس کو درخوراعتناء ہی نہیں سمجھا۔وہ جانتے تھے کہ اس قسم کے مولوی پہلے بھی دیکھے ہوئے ہیں یہاں بھی پہنچ گئے ہیں۔