خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 659
خطبات طاہر جلدم 659 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء کے ساتھ اس طرح چھوڑ دیا جاتا ہے بلکہ اس سے خوف پیدا ہو جاتا ہے۔اکثر معطل کنویں ایسے ہیں جن کے پاس رات کو جاتے ہوئے لوگ خوف کھاتے ہیں، عجیب عجیب روایتیں ان کی طرف منسوب ہو جاتی ہیں۔تو کہاں ایک کنویں کی حالت کہ جو شفاف ، صاف اور میٹھے پانی سے بھرا ہوا ہو اور دور سے پیاسوں کی نظر پڑے تو لپکتے ہوئے اس کی طرف جائیں، کہاں یہ بدلی ہوئی کیفیت کہ اس کنویں کے خیال سے بھی خوف پیدا ہو اور رات کو وہ رستہ چھوڑ کر لوگ اس سے دامن بچا کر کسی اور طرف سے گزرجائیں۔فرمایا یہ چیزیں اگر تم غور کرو گے تمہاری نظریں جو بظاہر دیکھتی ہیں۔لیکن اس کے باوجود دل نصیحت نہیں پکڑتے تو یہ بیماری دور ہو جائے گی۔ہو سکتا ہے جو کچھ تم دیکھو جب خدا کی عمومی تقدیر پر نظر ڈالو گے تو تمہارے دل اس کو سمجھنے بھی لگ جائیں لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔فرماتا ہے وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ اب ایسا نہیں ہوتا اور یہ لوگ نصیحت پکڑنے والے نہیں ہیں۔یہ تجھ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں ، کہتے ہیں جلدی سے عذاب لا کے دکھاؤ۔اب ظاہر بات ہے کہ اگر ان کو یہ یقین ہو کہ عذاب آجائے گا تو ہرگز جلدی نہ کریں۔یہ تمسخر کا ایک رنگ ہے، یہ ایک بے یقینی کے اظہار کا ذریعہ ہے۔کہتے ہیں اچھا جی ! عذاب اگر خدا نے لانا ہے اور تم اتنے ہی معصوم بنے پھرتے ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے تو پھر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اب جلدی سے عذاب لا کے دکھاؤ۔وَلَنْ تُخْلِفَ اللهُ وَعْدَهُ یہ کہتے ہیں حالانکہ یہ حقیقت ہے ایک اٹل حقیقت ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کی وعدہ خلافی کبھی نہیں کیا کرتا۔اس کے باوجود وہ بڑی جرأت سے مطالبہ کرتے ہیں۔اب یہاں تک پہنچنے کے بعد بظاہر انسان توقع رکھتا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ بہت جلدی وہ لوگ پکڑے جائیں گے اور تمہارے دیکھتے دیکھتے خدا کا عذاب ان کو آلے گا۔لیکن تعجب سے انسان اس آیت کا بقیہ حصہ پڑھتا ہے تو وہاں کچھ اور مضمون نظر آتا ہے۔فرماتا ہے : وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ تم تو عذاب میں جلدی کر رہے ہو اور اللہ اپنے وعدوں کے خلاف عمل نہیں کیا کرتا لازماً وعدے ایفاء فرمایا کرتا ہے۔انہیں حتمی طور پر، اتنے یقینی اور قطعی الفاظ میں ان کے شکوک کو رڈ فرمایا ، ان کے وہموں کو تو ڑا اور کہا کہ اس وہم میں نہ بیٹھے رہنا کہ خدا تمہیں نہیں پکڑے گا اور آگے کیا فرمایا، آگے فرمایا ہے : وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَرَبَّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ کہ بعض دن خدا کے ایک ہزار سال کے دن ہوا کرتے ہیں اُس