خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 643
خطبات طاہر جلدم 643 خطبہ جمعہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۸۵ء تک آنے کا سفر خرچ مہیا نہیں ہوا کرتا تھا،فکر کیا کرتے تھے کہاں سے لائیں گے تو دیکھیں تکذیب کے نام پر وہ اب لندن کے دورے کرنے لگے ہیں، نیو یارک کے دورے کرنے لگے ہیں، کیا کیا دنیا کی نئی نئی جگہیں دیکھنے لگے ہیں لیکن وہی مولوی وہی ان کی عادات ، وہی خصلتیں ، وہی زبان ، وہی لٹریچر کے عنوانات، وہی سفلہ حرکتیں ، ایک ذرہ بھی فرق نہیں ہے۔سرزمین بدل جاتی ہے لیکن عادات نہیں بدلتیں۔جو لٹریچر تقسیم کر رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ان کے عنوانات اس قسم کے ہیں کہ الہامی گرگٹ اور تمسخر کے عنوانات یہ ہیں کہ ”مرزا صاحب ( نقل کفر کفر نباشد ) اللہ کے نطفے سے پیدا ہوئے یہ ان علماء کی زبانیں ہیں ، یہ ان کے معیار ہیں تقویٰ کے اور پھر رسول اکرم کی طرف منسوب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی جوشکل وصورت ان کی ہیئت کذائی بالکل وہی ہے جو وہاں تھی اور بیوقوفی کر گئے ہیں یہ کہہ کر کہ ہم باہر نکل کر تعاقب کریں گے کیونکہ پہلے تو ان کا یہ حال تھا کہ بند قلعوں میں لڑتے تھے اور قرآن کریم نے ان کا نقشہ خوب کھینچا ہوا ہے کہ جب تک دیواروں کے پیچھے سے ہو کر نہ لڑیں ان میں جرات نہیں ہے باہر نکل کر لڑنے کی۔دلائل ان کے پاس تھے نہیں نہ اب ہیں ، اگر دلائل ہوتے تو تشدد کی باتیں کیوں کرتے۔یہ ایک بنیادی ، لا زوال اصول ہے اس کو ہمیشہ یادرکھیں، کبھی یہ تبدیل نہیں ہوا ہمیشہ تشدد پر وہ لوگ اترا کرتے ہیں جن کے پاس دلیل نہیں رہتی یہ انفرادی طور پر بھی ایک حقیقت ہے اور اجتماعی طور پر بھی ایک حقیقت ہے کل بھی ایک حقیقت تھی اور آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔جب آپس میں جھگڑے چلتے ہیں بچوں کے اس وقت بھی یہی بات سامنے آتی ہے۔جس کے پاس نہ دلیل ہو وہ مارنے پر آجاتا ہے ، پہلے گالیاں نکلتی ہیں منہ سے اور پھر پتھر شروع ہو جاتے ہیں۔انبیاء کی تاریخ بھی اسی قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے شروع میں ذرا نرم بات کرتے ہیں۔سمجھانے کی باتیں بھی کرتے ہیں ، دلیل سے بھی بظاہر ان کا رستہ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں پھر کچھ دیر کے بعد کہتے ہیں کہ میاں تم باز آنے والے نہیں تمہاری ایسی تیسی تمہیں ہم گالیاں دیں گے، بائیکاٹ کریں گے اور زندگی تم پر حرام کریں گے اور پھر جب سب کچھ باقی نہیں رہتا پھر قتل کے فتوے، پھر مرتد کی سزا قتل ان باتوں پر آجاتے ہیں۔سارے انبیاء کی تاریخ میں دیکھ لیں کبھی انبیاء نے دین چھوڑنے والوں کے اوپر قتلکا فتویٰ نہیں لگایا اور بلا استثناء تمام انبیاء کے مخالف بالآخر مرتد کی