خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 644
خطبات طاہر جلدم 644 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۸۵ء سز اقتل کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے۔قرآن کریم بھرا ہوا ہے ان کی تاریخ سے، کوئی ایک نبی بھی ایسا نہیں آیا جس کے اوپر مخالفت کا انجام تشدد پر نہ ہوا ہو اور تشدد بھی پھر انتہائی قسم کا ، جلا کر مارنا، مخالف سمتوں سے اعضاء کو کاٹ دینا، اذیتیں دے دے کر ہلاک کرنا، بیویوں کو خاوندوں سے الگ کر دینا خاوندوں کو بیویوں سے جدا کر دینا، ہر قسم کے مظالم کے جو رستے سوچے جا سکتے ہیں یا دشمن سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کیوں؟ اس لئے کہ دلیل کوئی نہیں ہوتی اور اس کے مقابل پر اہل حق کا یہی اعلان ہوتا ب يَحْلِى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ (انفال:۴۳) کہ زندہ رہنا ہے تو دلیل سے زندہ رہ کر دکھاؤ کیونکہ تقدیر یہی ہے خدا تعالیٰ کی کہ وہی زندہ رہے گا کہ جو دلیل کے ساتھ زندہ ہے اور کوئی نہیں جواس تقدیر کو بدل سکتا ہو۔پس ان کا تشدد کی باتیں ، ان کا گالیوں پر اتر آنا، ان کا قانون کے سہارے ڈھونڈ نا بجائے اس کے کہ ایسی فضا سازگار کریں کہ تبادلہ خیالات زیادہ کثرت سے ہو شریفانہ ماحول میں ہو، انسانی سطح پر ہو یہ ایسی فضا پیدا کرتے ہیں کہ کوئی تبادلہ خیالات سن ہی نہ سکے۔آنحضرت علی کے متعلق بھی کسی زمانے میں یہ کہا کرتے تھے جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو تم اس وقت شور مچا دیا کرو، باتیں نہ سنا کرو کیونکہ جب باتیں سنو گے تو دل پر اثر پڑ جائے گا۔وہ سارے حربے جو پہلے انبیاء کے زمانہ میں ان کی مخالفت میں دشمن استعمال کیا کرتا تھا ، وہ تمام حربے پاکستان میں ان علماء نے جماعت احمدیہ کے خلاف استعمال کئے اور کر رہے ہیں اور یہ حربے کمزوری کے سوا کوئی قوم استعمال نہیں کیا کرتی ، ہمیشہ وہی تو میں یہ حربے استعمال کرتی ہیں جن کے پاس دلیل کی طاقت نہ ہو اور تشدد کی طاقت ہو اور یہ ایک غیر مبدل اصول ہے اس کو کوئی تبدیل کر ہی نہیں سکتا۔منطقی لحاظ سے بھی تبدیل نہیں کر سکتا، واقعاتی لحاظ سے بھی تبدیل نہیں کر سکتا۔جس کے پاس دلیل کی طاقت ہے وہ تشد د استعمال نہیں کرئے گا اور جس کے پاس دلیل کی طاقت نہیں ہے وہ کے اگر اس کے پاس طاقت ہو دوسری وہ تشد داستعمال کرتا ہے اور باز نہیں آتا تو جب یہ کر بیٹھے ہیں تو ان کی کمزوری تو ظاہر ہو جانی چاہئے ، انکے اوپر۔اب جو رسہ تڑوا کر باہر کی طرف بھاگے ہیں جہاں تشدد چل نہیں سکتا تو مارکھا ئیں گے ، بڑی بیوقوفی ہے۔ایک کمزور آدمی کا اپنا قلعہ توڑ کر خود باہر نکل آنا اور ایسے میدان میں پہنچ جانا جہاں اس کے لئے شکست ہی مقدر ہے صرف کیونکہ اگر دلیل پہلے ہوتی تو پھر ان کو ضرورت ہی کوئی نہیں تھی تشدد کی جب دلیل نہیں ہے تو بے دلیل باہر نکل کر ذلیل کیوں ہوتے ہیں پھر۔بیوقوفی ہے ان