خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 642

خطبات طاہر جلدم 642 خطبہ جمعہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۸۵ء کرشمہ ہے کہ عُلَمَائی نہیں فرمایا بلکہ عُلَمَاء هُم فرما دیا۔ان کی نسبت مجھ سے نہیں ہوگی۔ان فرما دیا۔ہوگی۔ان میں دنیا کی باتیں ہوں گی دنیا کے عالم ہوں گی جہاں تک مذہبی دنیا کا تعلق ہے، جہاں تک مذہبی رسوم کا تعلق ہے، جہاں تک مذہبی اصطلاحوں کا تعلق ہے وہ علماء نہیں لیکن دنیا کے علم کے لحاظ سے عُلَمَاء هُم ان ہی جیسے ان میں سے ہی علماء ہوں گے۔وہ بہر حال یہ اصطلاح کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قرآن کریم علم کے ساتھ تقویٰ کو باندھتا ہے اور علم کی تعریف میں تقوی داخل فرما دیا گیا ہے اور اس مضمون کو اور بھی ہر جہت میں اسی طرح پھیلایا گیا ہے، تدبر اور تفکر کے ساتھ بھی تقویٰ کو باندھ دیا گیا ہے اور بہت سی ایسی اصطلاحیں ہیں قرآن کریم کی جو باقی دنیا کی اصطلاحوں سے مختلف ہیں۔بہر حال یہ علماء ھم جنہوں نے تکذیب کو اپنے رزق کا ذریعہ بنالیا ہے، قرآن کریم کے بیان کے مطابق کیا تم خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہو خدا کے ابنیاء کی تکذیب کو اپنے رزق کا ذریعہ بناتے ہو اور یہ رزق کا ذریعہ جو ہے یہ بھی لامتناہی ہے۔اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ اسکی صفت رزاقیت ہر سمت میں جلوہ دکھاتی ہے اگر اس کے رزق کو نا پاک ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تب بھی وہ رزق ختم نہیں ہوتا اور پاکیزہ ذرائع سے تو وہ ختم ہو ہی نہیں سکتا۔ایک لا متناہی وجود ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو کہیں ختم نہیں ہوتا۔منکرین انکار کا رزق کھاتے ہیں اور کھاتے چلے جاتے ہیں اور نئے نئے رستے ان پر کھلتے چلے جاتے ہیں اور کوئی ایک ایسی جگہ نہیں آتی کہ وہ کہیں کہ اب خدا کا رزق ہم پر بند ہو گیا ہے۔تکذیب کی نئی راہیں نکال لیتے ہیں اور نئے رستے رزق کے کھل جاتے ہیں۔چنانچہ آج کل بھی انہوں نے ایک نئی ایجاد کی ہے۔وہ کہتے ہیں پاکستان میں تو ہم نے احمدیت کو تباہ کر دیا ہے، دم گھونٹ کے مار دیا ہے، اب یہ لوگ اپنی جان بچانے کے لئے باہر نکلے ہیں اور علماء اب ان کا تعاقب کریں گے۔امام جماعت احمد یہ بھاگ کے ہاتھوں سے نکل گیا اور اب علماء کو دیکھو کہ وہ کسی طرح ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جہاں جہاں پہنچے گا وہاں وہاں پہنچ کر احمد بیت کو ہلاک کر دیں گے اور اس طرح یہ کہ کہہ کر بعض مسلمان حکومتوں کے پاس پہنچے ، ان سے پیسے بٹورے، بعض سادہ لوح عوام کے پاس جا کے اشتعال دلائے ان سے پیسے بٹورے اور جن کو لاہور سے کراچی