خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 641
خطبات طاہر جلدم 641 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۸۵ء جماعت احمدیہ نے تقدیر الہی سے بہر حال بڑھنا ہے (خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ جولائی ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (الشعراء:۱۳) اور پھر فرمایا: وہ علماء یا علماء کہلانے والے لوگ، کیونکہ فی الحقیقت جن صفات کے یہ مبینہ علماء ہیں قرآنی اصطلاح کے مطابق ان پر علماء کا لفظ صادق نہیں آتا اس لئے میں نے جب کہا کہ وہ علماء تو معاً میرا خیال قرآن کریم کے اس مضمون کی طرف منتقل ہوا جس میں علم کی شرط تقومی رکھ دی گئی ہے اور علماء کی یہ ایک حیرت انگیز تعریف کی گئی ہے کہ: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (الفاطر: ۲۹) کہ علماء تو وہ ہوتے ہیں جو خدا کے بندوں میں سے اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔گویا وہی ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں، علماء ہی ہیں جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔تو علم کی ایسی تعریف کبھی دنیا کی کسی کتاب میں آپ کو نہیں لی ہوگی کہ علم تقویٰ کا نام ہے علم خدا کے خوف کا نام ہے۔پس رسمی طور پر ہمیں علماء تو کہنا ہی پڑتا ہے اور آنحضرت علیہ نے بھی اس امت کے علماء کو علماء ہی کہہ کر مخاطب فرمایا لیکن ایک شرط کے سے ساتھ۔یہ فصاحت و بلاغت کا حضور اکرم ﷺ کا