خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد۴ 639 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۸۵ء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بڑھ کر حسن اخلاق لے کر آپ دنیا میں تبلیغ کریں گے؟ تمام انبیاء حسن خلق سے آراستہ تھے اور اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے عالم میں اخلاق میں بہترین تھے سب سے بلند تر مقام پر فائز تھے ان کو خدا نے کیوں نہیں کہہ دیا کہ حسن خلق لے کر چلو اور کسی تبلیغ کی ضرورت نہیں۔اس لئے یہ بات درست نہیں ہے آپ کی کہ خالی حسن خلق کا فی ہوا کرتا ہے یہ تو ایک بزدلی کا بہانہ ہے، یہ تو ایک گریز کی راہ ہے جو بعض لوگ اختیار کرتے ہیں۔پس جو کمزور ہیں اور جو بزدل ہیں وہ ایک طرف ہٹ جائیں جماعت تو لازماً آگے بڑھے گی۔کتنی دیر ہوگئی ہے آپ کو اس ذلت اور رسوائی کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہوئے۔جب تک آپ تھوڑے رہیں گے آپ کو ہر وقت کا فرعون حقیر گردانے گا اور آپ پر ظلم کرے گا اور سب سے بڑا آپ پر ظلم یہ کرے گا کہ آپ کے مقدس اور پیارے بزرگوں کو گندی گالیاں دے گا اور آپ کچھ کر نہیں سکیں گے، کرنا چاہیں گے بھی تو خدا کی تعلیم آپ کو کچھ نہیں کرنے دے گی۔دکھ آپ کا بڑھتا رہے گا اور آپ حیران ہوں گے کہ ہمیں اس دکھ میں کیوں مبتلا کیا گیا ہے، کیوں اس دکھ کو دور کرنے کی راہ ہمارے لئے بند کر دی گئی ہے۔جب ہم تیار ہیں اپنی گردن کٹوانے کے لئے اور دوسرے کی گردن کاٹنے کے لئے اور خدا کے نام پر اور خدا کی غیرت کی خاطر ہم یہ چاہتے ہیں تو اس سے کیوں روکا گیا ہے اور اگر اس سے روکا گیا ہے تو خدا ان لوگوں کو کیوں کھلی چھٹی دے رہا ہے؟ اس لئے دے رہا ہے کہ آپ کو دکھوں میں مبتلا کر کے آپ کو یاد کروائے کہ آپ دنیا کی تقدیر بدلنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔جب تک آپ تبلیغ کے ذریعہ عالمی انقلاب برپا نہیں کر لیتے آپ کو لازماً اس دکھ کی زندگی میں سے گزرنا پڑے گا اور ہم کوئی چارہ نہیں رہنے دیں گے تمہارے لئے ، کوئی راستہ نہیں چھوڑیں گے تمہارے لئے ، یا ہمیشہ کے لئے دکھوں اور ذلت کی زندگی قبول کرلو یا تبلیغ کرو اور دنیا میں انقلاب بر پا کرو تیسری راہ ہی کوئی نہیں۔پس یہ ہے جماعت احمدیہ کا منصب اور جماعت احمدیہ کا مقام۔پس اگر دکھ ہیں دنیا میں اگر دکھ پہنچانے کی اجازت دے رہا ہے خدا تعالیٰ تو آپ کو یاددہانی کرواتا ہے اور ہر دفعہ جب یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے تو قرآن کریم آپ کو متنبہ کر رہا ہوتا ہے ہم نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ فرعون نے یہ کہا تھا کہ یہ تَشِرُ ذِمَةٌ قَلِيلُونَ ہیں یہ ہمارے لئے غیظ دلانے والے ہیں تو جب تک تم تھوڑے ہو تم غلیظ دلاتے رہو گے تمہارا تھوڑا ہونا ،تمہارا کمزور ہونا ہی غیظ کا موجب