خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 57

خطبات طاہر جلدم 57 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء ان کے مقدر میں نہیں ہوتی کیونکہ مَنْ يُضْلِلِ الله فَلَا هَادِ لَهُ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دینا چاہتا دنیا کی کوئی طاقت ان کو ہدایت نہیں دے سکتی۔پس ایسے استثناء تو موجود ہیں ،لیکن مجھے پاکستان کی بھاری اکثریت سے حسن ظن ہے کہ اگر ان تک جماعت احمدیہ کا موقف صحیح صورت میں پہنچ جائے خصوصاً موجودہ دور کی نسلوں تک جو نسبتاً زیادہ معقول رنگ رکھتی ہیں اور تقلید کی اتنی قائل نہیں ہیں جتنی پچھلی نسلیں قائل تھیں تو یقیناً ان کی بھاری اکثریت بفضلہ تعالیٰ احمدی ہو جائے گی۔چنانچہ موجودہ حکومت نے اس کی پیش بندی یوں کی کہ جماعت احمدیہ پر یک طرفہ حملے تو کئے لیکن جواب کی اجازت ہی نہیں دی۔دفاع کا موقع ہی پیدا نہیں ہونے دیا۔چنانچہ جماعت کے خلاف حملوں سے پہلے ہی حکومت نے ایسا رویہ اختیار کر لیا کہ جماعت کا وہ لٹریچر ضبط کر لیا جائے جس میں ان کے آئندہ کئے جانے والے حملوں کا جواب موجود ہے۔حکومت کی پالیسی میں یہ جو تضاد پایا جاتا ہے اس سے بظاہر ایک بے عقلی کی بات بھی نظر آتی ہے لیکن بے عقلی سے زیادہ اس میں شرارت اور چالا کی پائی جاتی ہے۔ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لٹریچر اس لئے ضبط کیا جا رہا ہے کہ اس سے پاکستان کے لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور دوسری طرف اس میں سے صرف وہی جملے نکال کر شائع کئے جارہے ہیں جن سے بقول ان کے دل آزاری ہوتی ہے۔کیسی احمقانہ بات ہے تم کہہ یہ رہے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں ہم اس لئے ضبط کر رہے ہیں کہ ان سے مسلمان عوام خصوصاً پاکستانی عوام کی دل آزاری ہوتی ہے اور اس دل آزاری کا علاج یہ کیا ہے کہ وہ حصے جن سے دل آزاری نہیں ہوتی اُن کا شائع کرنا تو قا نو نا بند کر دیا اور جن سے تمہارے زعم میں دل آزاری ہوتی ہے ان کو گورنمنٹ کے خرچ پر بصرف کثیر ساری دنیا میں پھیلا رہے ہو۔پس بظاہر تو یہ ایک تضاد ہے لیکن یہ تضاد ایک چالا کی کے نتیجہ میں ہے۔انہوں نے ایک ظالمانہ اور ناپاک حملہ کرنا ہی تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں اعتراضات کے جوابات موجود ہیں اور ہر شریف النفس انسان جو ان کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اور سیاق وسباق کو دیکھتا ہے تو اعتراض خود بخود دور ہو جاتا ہے۔چنا نچہ قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران بھی یہی ہوتا رہا۔حضرت خلیفۃالمسیح الثالث" نے مجھے بھی ساتھ جانے کا موقع دیا تھا۔اسمبلی کی کارروائی کے دوران میں نے اور میرے دوسرے