خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد۴ 629 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۸۵ء تبدیل کر دیں گے اور یا پھر سارے ملک میں فساد پھیل جائے گا ۔ مطلب یہ تھا کہ مذہب تو ہم تبدیل نہیں ہونے دیں گے یہ دوسری بات ہوگی ، تبلیغ کے نتیجہ میں فساد بر پا ہوگا ۔ یہ تو فرعون کی بات ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تبلیغ کا فساد کے ساتھ کوئی تعلق ہے ضرور ۔ کیونکہ جب زمین و آسمان ابھی پیدا بھی نہیں کئے گئے جبکہ آدم کی تخلیق کا سوال زیر غور تھا اس وقت قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے۔ وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءِ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (البقره: ۳۱) یہ اس وقت سے سوال اٹھا ہوا ہے جب یہ انسان پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ جب خدا نے دنیا میں خلیفہ یعنی نبی بنانے کا فیصلہ کیا اور سلسلہ انبیاء جاری کرنے کا فیصلہ فرمایا تو ملائکہ تو متکبر نہیں تھے، ملائکہ میں تو کوئی فرعونیت نہیں تھی لیکن اپنی لاعلمی میں ظاہری صورت میں وہ بھی اس اشتباہ میں مبتلا ہو گئے ، انہوں نے سمجھا کہ اگر وہ جا کر نیا World Order پیدا کریگا، انقلابی باتیں کرے گا ، دلائل کے ساتھ پرانے رسم و رواج کو توڑ کر ایک نیا زمین و آسمان پیدا کر یگا تو ایسی صورت میں لوگ لازماً مخالفت کریں گے اور فساد پھیل جائے گا لیکن اپنی غلطی سے اور لاعلمی میں انہوں نے بھی فساد کی ذمہ داری گویا آدم پر ڈال دی اور خلیفہ اللہ پر ڈال دی۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے صرف اتنا فرمایا إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ میں زیادہ جانتا ہوں تمہیں کیا پتہ؟ اب بظاہر اس بات میں بڑی تحدی تو ہے مگر دلیل کوئی نہیں، کوئی آپ سے گفتگو کر رہا ہے دلیل کے ساتھ آپ کہیں مجھے زیادہ پتہ ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس میں کچھ ناراضگی کا اظہار ہے اس طرز کلام میں اور کچھ یہ بتانا مقصود ہے کہ تم ذمہ داری غلط ڈال رہے ہوا اگر غور کرو تو خود اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہو۔ کسی ایسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے جس کا تمہیں علم ہو نہ سکتا ہو جس تک تمہاری رسائی نہ ہو تھوڑا سا تدبر کرو، اپنے مقام کو دیکھو، مزید غور کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ فساد تو ہو گا لیکن ذمہ داری میرے خلیفہ پر نہیں ہوگی ، ذمہ داری دوسروں پر ہوگی ۔