خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 629 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 629

خطبات طاہر جلدم 629 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۵ء تبدیل کر دیں گے اور یا پھر سارے ملک میں فساد پھیل جائے گا۔مطلب یہ تھا کہ مذہب تو ہم تبدیل نہیں ہونے دیں گے یہ دوسری بات ہوگی تبلیغ کے نتیجہ میں فساد برپا ہوگا۔یہ تو فرعون کی بات ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تبلیغ کا فساد کے ساتھ کوئی تعلق ہے ضرور۔کیونکہ جب زمین و آسمان ابھی پیدا بھی نہیں کئے گئے جبکہ آدم کی تخلیق کا سوال زیر غور تھا اس وقت قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے۔وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَليكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) (البقره: ۳۱) یہ اس وقت سے سوال اٹھا ہوا ہے جب یہ انسان پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔جب خدا نے دنیا میں خلیفہ یعنی نبی بنانے کا فیصلہ کیا اور سلسلہ انبیاء جاری کرنے کا فیصلہ فرمایا تو ملائکہ تو متکبر نہیں تھے ، ملائکہ میں تو کوئی فرعونیت نہیں تھی لیکن اپنی لاعلمی میں ظاہری صورت میں وہ بھی اس اشتباہ میں مبتلا ہو گئے ، انہوں نے سمجھا کہ اگر وہ جا کر نیا World Order پیدا کریگا، انقلابی باتیں کرے گا ، دلائل کے ساتھ پرانے رسم و رواج کو توڑ کر ایک نیا زمین و آسمان پیدا کریگا تو ایسی صورت میں لوگ لازماً مخالفت کریں گے اور فساد پھیل جائے گا لیکن اپنی غلطی سے اور لاعلمی میں انہوں نے بھی فساد کی ذمہ داری گویا آدم پر ڈال دی اور خلیفتہ اللہ پر ڈال دی۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے صرف اتنا فرما انّى اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ میں زیادہ جانتا ہوں تمہیں کیا پتہ؟ اب بظاہر اس بات میں بڑی تحدی تو ہے مگر دلیل کوئی نہیں، کوئی آپ سے گفتگو کر رہا ہے دلیل کے ساتھ آپ کہیں مجھے زیادہ پتہ ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس میں کچھ ناراضگی کا اظہار ہے اس طرز کلام میں اور کچھ یہ بتانا مقصود ہے کہ تم ذمہ داری غلط ڈال رہے ہو اگر غور کرو تو خود اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہو۔کسی ایسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے جس کا تمہیں علم ہو نہ سکتا ہو جس تک تمہاری رسائی نہ ہو تھوڑا سا تد بر کرو، اپنے مقام کو دیکھو، مزید غور کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ فساد تو ہو گا لیکن ذمہ داری میرے خلیفہ پر نہیں ہوگی ، ذمہ داری دوسروں پر ہوگی۔