خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 628

خطبات طاہر جلدم 628 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۵ء ہے سب پیغام رسانوں سے زیادہ امانت دار تھے جن کے متعلق خود قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ وہ امانت جس کو زمین اور آسمان اور پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا، یہ میرا بندہ مرد کامل آگے بڑھا اور اس امانت کو اٹھا لیا۔آپ کے متعلق کوئی بعید امکان بھی نہیں ہے کہ آپ پیغام رسانی سے باز رہیں۔شدید دکھوں ، شدید مصائب کے مقابل پر آپ اُس وقت جبکہ تنہا تھے اس وقت بڑی جرات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اس امانت کا حق ادا فرماتے رہے، تو آپ کو مخاطب کر کے کیوں ایسا کہا گیا ہے؟ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بیان کیا تھا کہ یہاں دراصل امت محمدیہ کو متنبہ کرنا من نا مقصود مخاطب حضور اکرم ﷺ ہیں اور تنبیہ امت کو کی جارہی ہے یہ طرز کلام عام دنیا میں بھی اختیار کی جاتی ہے اور خودا قدس حضرت محمد مصطفی علی اللہ نے بھی اختیار فرمائی جب یہ کہا کہ میری بیٹی اگر چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔کوئی دور کا بھی احتمال نہیں تھا حضرت سیدہ فاطمتہ الزھراء کا چوری کرنے کا جو خاتون جنت ہیں جو تمام خواتین میں افضل۔( بخاری کتاب احادیث الانبیاء حدیث نمبر 3216) ان کے متعلق حضور اکرم ﷺ فرمارہے ہیں کہ یہ چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا تو یہ احتمالات ایسے نہیں ہیں جو ہو سکتے ہیں یہ ایک محاورہ کلام ہے مراد یہ ہوتی ہے کہ جو میرے سب سے زیادہ قریبی ہے جس سے بڑھ کر کوئی وجود نظر نہیں آسکتا تمہیں وہ بھی اگر رعایت کا مستحق نہیں تو تم جوادنی ہو تم کیسے رعایت کے مستحق ہو گے؟ پس آنحضرت ﷺ کو مخاطب فرما کر تبلیغ کی فرضیت کو امت محمدیہ پر ظاہر کرنے کا اس سے زیادہ اور کوئی قومی اور سخت ذریعہ ممکن نہیں تھا۔تنبیہ ساری امت کو کی جارہی ہے حضرت رسول اکرم ﷺ کے غلاموں کو کی جارہی ہے۔ایک طرف یہ آواز اٹھ رہی ہے اور دوسری طرف قرآن ہمیں فرعون کی آواز بھی سنا رہا ہے جو یہ کہتی سنائی دیتی ہے وہ آواز انّی اَخَافُ أَنْ تُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (المومن (۲۷) کہ یہ تبلیغ کا کیا قصہ شروع کر دیا ان لوگوں نے مجھے تو ڈر یہ ہے کہ جس انہماک کے ساتھ ، جس شدت کے ساتھ ، جس قوت کے ساتھ یہ لوگ تبلیغ کا کام کر رہے ہیں یا تو تمہارا مذہب تبدیل کر دیں گے۔ایسے آثار نظر آرہے تھے حضرت موسیٰ کی تبلیغ میں فرعون کو کہ اس کو پتہ لگ گیا تھا کہ اس شدت کے ساتھ ، اس حکمت کے ساتھ ، اس گہری تاثیر کے ساتھ جب قوم کو پیغام پہنچایا جائے گا تو وہ لازماً قبول کر لیں گے۔تو اس نے کہا یا تو یہ تمہارا مذہب