خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 620 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 620

خطبات طاہر جلد۴ 620 خطبہ جمعہ ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۸۵ء جن کی قوموں کی لاکھ تعداد وہ دس کے مقابل پر دس بھی نہیں دکھا سکتے جن میں جماعت احمدیہ کے غرباء کی طرح مالی قربانی کی روح پائی جاتی ہو۔جماعت احمدیہ نے افریقہ کو مسلمان بنایا تو چندہ دینے والا مسلمان بنایا اور قربانی کرنے والا مسلمان بنایا اور ساری جماعت قربانی میں شامل ہو گئی۔جس ملک میں بھی جماعت داخل ہورہی ہے وہاں خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے پیدا کر رہی ہے اور بھی کئی فرق ہیں مگر یہ ایک ایسا بنیادی اور نمایاں فرق ہے کہ ہم بلا شبہ سر بلند کر کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ساری دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے مقابل پر مالی قربانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اپنے مال سے بھی اس سلسلہ کی خدمت کرے۔جو شخص ایک پیسے کی حیثیت رکھتا ہے وہ سلسلہ کے مصارف کے لئے ماہ بماہ ایک پیسہ دیوے اور جو شخص ایک روپیہ ماہوار دے سکتا ہے وہ ایک روپیہ ماہوار ادا کرے۔“ یہ وہ فقرہ ہے جس کی طرف میں نے توجہ دلائی تھی۔لوگ پوچھتے ہیں کہ اب آپ نے سولہواں حصہ کیوں شروع کر دیا یہ جو جماعت کا چندہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو کھلی چھٹی دے دی ہے کہ ایک پیسہ ہے تو ایک پیسہ دے دو۔اس سلسلہ میں دو باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔اول تو یہ کہ میں جماعت میں یہ اعلان بڑے واضح لفظوں میں کر چکا ہوں کہ ۱۶ اسے بچنے کے لئے تم آمدن نہ چھپاؤ، جھوٹ نہ بولو کیونکہ اس طرح تمہاری قربانی خواہ کتنی بھی ہو ساری ضائع ہو جائے گی اس لئے اگر تمہیں توفیق نہیں تو بے شک کم دو لیکن بتا کے دو کہ ہمیں ۱۶ا کی توفیق نہیں ہم کم دینا چاہتے ہیں اور دوضرور۔بعض لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ ہمارے یہ حالات ہیں، ہما را چندہ بالکل معاف کر دیا جائے۔میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ میں تم پر یہ ظلم نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خدا کا وعدہ ہے کہ جو شخص چندہ دے گا میں اس کے اموال میں کمی نہیں کروں گا بلکہ برکت دے دوں گا اور تم کہتے ہو کہ سارا معاف کر کے تمہیں اس برکت سے کلیۂ محروم کر دوں۔میں یہ نہیں کر سکتا۔اگر تمہیں تو فیق نہیں ہے تو بے شک ایک روپیہ دو، پانچ روپے دو، دس روپے دو، اس زمانے میں تمہیں جتنی توفیق ہے وہ ضرور دے دو اور