خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 615 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 615

خطبات طاہر جلدم 615 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۵ء سے زیادہ پہلوؤں میں سچی بات ہے۔اس کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں مگر یہ پہلو کہ امام وقت کے علم میں ایک خرچ میں آ رہا ہے اور وہ محبت اور پیار کے ساتھ اسے بے ساختہ دعائیں دے رہا ہو ، یہ تو پیسے کی کیفیت بدل دیتا ہے۔اس میں تو روپے کی اپنی مالیت کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔سارے کا سارا خزانہ دعاؤں کا خزانہ بن جاتا ہے۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک عجیب نکتہ یہ بھی بیان فرماتے ہیں۔کہ امام وقت کے سامنے اپنی مالی قربانی کو پیش کرنا یہ ریا کاری نہیں ہے۔دنیا کو دکھانے کے لئے کوشش کرنا کہ نام اچھے اور سب کی نظر میں آئے یہ ریا کاری ہے لیکن امام کے سامنے پیش کرنا حصول دعا کا ایک ذریعہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے پیار سے اس بات کو ظاہر فرمایا ہے۔فرمایا: یہ ایک ایسا مبارک وقت ہے کہ تم میں وہ خدا کا فرستادہ موجود ہے جس کا صد ہا سال سے امتیں انتظار کر رہی تھیں۔“ اب یہ دوسرا پہلو بھی دیکھ لیجئے ایک پیسہ چھوڑ کر ایک ڈمری بھی خرچ کی جائے جو وقت بیان کیا جا رہا ہے آئندہ آنے والے انفاق سبیل اللہ کے پہاڑوں سے بھی بڑھ کر وہ خرچ بن جاتا ہے اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی بے انتہاء انکساری کے باوجود اپنے قلم سے لکھ رہے ہیں۔اس لئے کہ اس بات میں بڑی عظمت تھی اسے چھپا نہیں سکتے تھے۔ایسا مبارک وقت ہے کہ تم میں وہ خدا کا فرستادہ موجود ہے جس کا صد ہا سال سے امتیں انتظار کر رہی تھیں اور ہر روز خدا تعالیٰ کی تازہ وحی بشارتوں سے بھری ہوئی نازل ہورہی ہے“ اللهم صل علی محمد و علی ال محمد صحابہ نے جو دن دیکھے وہ عجیب دن تھے واقعی اس وقت کا ایک پیسہ خرچ کیا ہوا پیسوں کے اعداوشمار میں تو اس کا ذکر ہی نہیں آنا چاہئے وہ تو چیز ہی کچھ اور تھی۔خدا تعالی نے متواتر ظاہر کردیا ہے کہ واقعی اور قلعی طور پر وہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائے گا کہ اپنے عزیز مال کو اس راہ میں خرچ کرے