خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 614 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 614

خطبات طاہر جلد۴ 614 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء مسیحائی ہے جس نے مردہ تنوں میں جان ڈال دی ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارتوں کو پڑھیں اور مجھے افسوس ہے کہ اکثر پوری طرح اس کی طرف توجہ نہیں دے رہے تب وہ محسوس کریں گے کہ کیا فرق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں اور ایک عام کلام میں۔اپنی جماعت کو مالی قربانی کے لئے جس طرح آپ نے تیار کیا ان عبارتوں میں سے میں چند اقتباسات نمونہ آپ کو یاد دہانی کے طور پر سناتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”دنیا جائے گزشتنی گزاشتنی ہے اور جب انسان ایک ضروری وقت میں ایک نیک کام کے بجالانے میں پوری کوشش نہیں کرتا تو پھر وہ گیا ہوا وقت ہاتھ نہیں آتا اور خود میں دیکھتا ہوں کہ بہت سا حصہ عمر کا گزار چکا ہوں اور الہام الہی اور قیاس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ باقی ماندہ تھوڑ اسا حصہ ہے۔پس جو کوئی میری موجودگی اور میری زندگی میں میری منشاء کے مطابق میری اغراض میں مدد دے گا۔میں امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت میں بھی میرے ساتھ ہوگا اور جو شخص ایسی ضروری مہمات میں مال خرچ کرے گا۔میں امید نہیں رکھتا کہ اس مال کے خرچ سے اس کے مال میں کچھ کمی آجائے گی بلکہ اس کے مال میں برکت ہوگی۔پس چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے پورے اخلاص اور جوش اور ہمت سے کام لیں کہ یہی وقت خدمت گزاری کا ہے پھر بعد اس کے وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کا پہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں تو اس وقت کے پیسہ کے برابر نہیں ہوگا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه : ۴۹۷-۴۹۶) امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں ایسے ایسےمخلصین کا بھی ذکر دعائیں دیتے ہوئے فرمایا ہے جنہوں نے دو پیسے پیش کئے تھے۔آج کل دو پیسے کی حیثیت کیا ہے۔اس زمانے میں بھی دو پیسے کی کیا حیثیت تھی لیکن ان دعاؤں نے ان دو پیسوں کو ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ بنا دیا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فرماتے ہیں کہ ایک پیسہ جو آج خرچ کرتا ہے بعد میں اگر سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرے تو وہ اس کی قیمت نہیں ہوگی۔یہ ایک