خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 611
خطبات طاہر جلد۴ 611 خطبہ جمعہ ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۸۵ء نصیب نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے جماعت احمدیہ کو ذلیل اور نا مراد اور نا کام ہوتے دیکھ لیا ہے۔اس کے برعکس آپ بھی اور آپ کی آئندہ نسلیں بھی ہمیشہ نہایت خطر ناک سے خطرناک حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے اوپر پہلے سے زیادہ برستاد دیکھیں گے۔اور اپنے دین کے معیار کو ہمیشہ بلند تر ہوتا ہوا دیکھیں گے۔قرآن کریم کے یہ وعدے ہیں جو کبھی ٹل نہیں سکتے ناممکن ہے کہ کوئی انہیں غلط کر کے دکھا دے۔تحریک جدید کا بھی یہی حال ہوا۔ہمارے وکیل المال اول ہیں ان کو اتنی عادت نہیں ہے کہ گھبراہٹ کے خط لکھیں لیکن اس سال وہ بھی گھبرا گئے۔انہوں نے پچیس فی صد اضافہ تجویز کیا تھا جو معمولی اضافہ نہیں ہے۔گزشتہ کی کل آمد کے مقابل پر چھپیں صداضافہ کے ساتھ بجٹ رکھ لیا تھا اور سخت گھبراہٹ تھی کہ اضافہ اتنا بڑی سخت گھبراہٹ تھی اور اس کے مقابل پر حالات ایسے خطر ناک تو کیا کریں گے انہوں نے بھی اطلاع دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سال کے مقابل پر اب تک دس لاکھ زائد وصولی ہو چکی ہے اور 25 فی صد کا جو اضافہ تھاوہ پورا ہو گیا ہے اور ابھی اللہ کے فضل سے چندہ بھجوانے والے بھجوا رہے ہیں۔پاکستان کے سب اضلاع سے ابھی اطلاعیں بھی نہیں پہنچیں۔یہ جو اللہ کے فضلوں کی بارشیں ہیں کسی ایک جگہ نہیں ہے تمام دنیا میں یہی حالت ہے۔ایک بھی ملک ایسا نہیں جس کے چندوں میں کمی آئی ہو یا جس کے حالات خطرناک ہونے کے نتیجہ میں چندوں پر بد اثر پڑا ہو۔نائیجیریا کے حالات آپ جانتے ہیں، سیرالیون کے حالات آپ جانتے ہیں، غانا کے حالات آپ جانتے ہیں، افریقہ کے اکثر ممالک میں قحط سالیاں اور خطرناک قسم کے مالی بحران اور کئی قسم کی آزمائشیں ایسی آپڑیں کہ فاقہ کشی کے نہایت ہی درد ناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ایک موقع پر ہمارے مربی نے مجھے لکھا کہ بعض دفعہ تو ایسے دردناک مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ باہر معمولی سا دروازہ کھٹکا جس میں کوئی خاص جان نہیں تھی۔تو ہمارا مبلغ یوں ہی اٹھ کر چلا گیا کہ شاید کوئی عدم دلچسپی سے کر رہا ہے، خیر دیکھ لیں کون ہے؟ دورازہ کھول کر دیکھا تو ایک آدمی بے ہوش پڑا ہے اور فاقوں سے پنجر بنا ہوا تھا۔اس میں اتنی بھی طاقت نہیں تھی کہ روٹی کی خاطر زور سے دروازہ ہی کھٹکا لیتا۔اس بیچارے کو اٹھا کر اندر لائے اور خدمت خاطر کی جو کچھ ان کے پاس