خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 608
خطبات طاہر جلد۴ 608 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء پر جو پہلا جمعہ کا ہوا کرتا ہے اس خطبہ میں ان امور کا بیان ہوتا ہے لیکن مرکز سے رپورٹیں چونکہ ذرا تاخیر سے ملیں اس لئے مجبوراً کچھ تاخیر سے مجھے اس معاملہ میں جماعت کو صورت حال سے آگاہ کرنا پڑ رہا ہے۔ قرآن کریم ان راہ خدا میں محض اللہ کی خاطر خرچ کرنے والوں کا جو نقشہ کھنچتا ہے اس میں ایک موقع پر بیان فرماتا ہے : الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (ال عمران : ۱۳۵) کہ میرے بندے عجیب لوگ ہیں جو ایمان لانے کے نتیجہ میں خدا کی راہ میں اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ تنگی ترشی ، آسائش یا سختی کے دنوں کا ان کے اتفاق پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ جب خدا انہیں زیادہ دیتا ہے تو وہ بھی دل کھول کر زیادہ دیتے ہیں لیکن جب تنگی کے دن آتے ہیں تو پھر بھی وہ کمی نہیں آنے دیتے۔ جو سختی آتی ہے اپنے اوپر لے لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ سختی ہماری بداعمالیوں کے نتیجہ میں ، ہماری کمزوریوں کے نتیجہ میں ہے اس لئے خدا کی راہ میں دیئے جانے والے اموال پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے ۔ چنانچہ جب آسائش کے دن آتے ہیں تو خدا کی راہ میں وہ اپنے چندے اور اپنے انفاق کا معیار بڑھا دیتے ہیں اور جب تنگی کے دن آتے ہیں تو وہ اس بات سے شرماتے ہیں کہ ان بڑھے ہوئے بلند وعدوں کو چھوٹا کر دیں اس لئے کہ ان کے حالات تنگی کے آگئے ہیں ۔ یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے امر واقعہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا یہی نقشہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ اور آج ان کے غلاموں کے زمانے میں بھی بالکل یہی نقشہ ہے ۔ مجھے بکثرت ایسے لوگوں کا علم ہے جن پر اچھے حالات آئے اور انہوں نے اپنے چندے بڑھا دیئے اور پھر آزمائش میں ڈالے گئے اور ان پر تنگی کے دن آگئے اور چونکہ وہ ایک دفعہ معیار بڑھا چکے تھے وہ دعاؤں کے لئے مسلسل بڑے دردناک طریق پر خط لکھتے رہے کہ طبیعت میں شدید کرب ہے کہ کہیں چندے پر برا اثر نہ پڑ جائے اس لئے دعا کریں، چاہے جیسی بھی سختی ہو اور تنگی ہو خدا کی راہ میں ہم ایک دفعہ بڑھ بڑھ کر جواموال پیش کر چکے ہیں اس معیار میں کمی نہ آجائے اور یہ دعاوی جو ہیں یہ انفرادی سطح پر نہیں یہ قومی کردار کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ ارادے، یہ نیک تمنائیں ایک قومی کردار کے طور پر ہمارے درخت وجود کا