خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 607

خطبات طاہر جلد۴ 607 خطبہ جمعہ ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۸۵ء کے شعلے برستے ہیں ، منہ پر جھاگ آجاتی ہے اور جو لوگ اموال مانگ رہے ہوتے ہیں وہ بھی آگ کے شعلے برسا کے مانگ رہے ہوتے ہیں اور جو اموال پیش کرتے ہیں وہ بھی ایک کھولتے ہوئے دل کے ساتھ جس میں بغض کی آگ کھول رہی ہوتی ہے جسے اشتعال انگیز تقریریں اور بھی بھڑکا دیتی ہیں وہ اموال پیش کرتے ہیں اور تصدیق کے نتیجہ میں اموال مانگنے والے بھی خدا کی راہ میں آنسو بہانے والی آنکھوں کے ساتھ اموال مانگتے ہیں اور اموال پیش کرنے والے بھی خدا کی راہ میں آنسو بہانے والی آنکھوں کے ساتھ خدا کے حضور مال پیش کرتے ہیں۔تکذیب کے نتیجہ میں جو اموال پیش کئے جاتے ہیں ان میں دکھاوا،ان میں نمائش، ان میں اعلان اور اس قسم کا ایک ناپسندیدہ رنگ نمایاں طور پر پایا جاتا ہے جس کا روحانیت سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا۔اس کے برعکس جولوگ خدا کی راہ میں اموال پیش کرتے ہیں وہ بسا اوقات ان کو چھپاتے بھی ہیں، کسی کی نظر پڑے تو وہ اس سے شرما جاتے ہیں ، پیش کرتے ہیں اور تکبر پیدا نہیں ہوتا، پیش کرتے ہیں تو انکساری پیدا ہوتی ہے۔جب ان کے اموال قبول کئے جائیں تو صدمہ محسوس نہیں کرتے اور جب ان کی قربانیاں رد کر دی جائیں تو انتہائی دکھ محسوس کرتے ہیں۔غرضیکہ دونوں محرکات چونکہ ایک دوسرے سے بنیادی طور پر مختلف ہیں اس لئے ان کے نتائج بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔قرآن کریم ان دونوں امور پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے۔جب میں نے تفصیل سے نظر ڈالنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اتنا وسیع مضمون جو سارے قرآن کریم میں پھیلا پڑا ہے کہ اس حسین دنیا کی سیر کرانے کے لئے ایک لمبا وقت درکار ہے جو تصدیق والوں کے مناظر کھینچے ہیں اور جو ان کی دنیا پیش کی ہے۔ایسا عجیب عالم ہے کہ اسے دیکھ کر روح وجد میں آجاتی ہے۔وہ کر یہ مناظر جو تکذیب کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں وہ ایسے خوفناک اور ہولناک ہیں کہ گویا جہنم انسان کی آنکھوں کے سامنے لاکھڑی کی گئی ہے۔بہر حال آج میں اس کے مثبت پہلو سے متعلق صرف ایک دو باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ موقع ایسا موقع ہے کہ ہمارا مالی سال اختتام پذیر ہوا ہے اور نیا مالی سال شروع ہو گیا ہے اور آج کا خطبہ اس لحاظ سے تو تاخیر سے دیا جا رہا ہے۔اس خطبہ کا مضمون پہلے خطبہ میں بیان ہونا چاہئے تھا۔خطبہ کے لحاظ سے تاخیر کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے کہ عموماً تو مالی سال کے آغاز