خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 606
خطبات طاہر جلد ۴ 606 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء پیدا کر دیتا ہے اور ان کے مذہبی رہنما اس بگڑے ہوئے مزاج کی سے اور بھی ظالمانہ سلوک کرتے ہیں جب اسے مزید انگیخت دیتے ہیں اور مزید بھارتے ہیں اور اکساتے اس قدر مشتعل کر دیتے ہیں کہ ان کی لذتیں بھی تکذیب پر ہی منحصر ہو کر رہ جاتی ہیں اور ان کو غلط لذتوں کی عادت پڑ جاتی ہے۔ دین کے نام پر خدا تعالیٰ کی حمد سننے کا مزہ نہیں آتا ، دین کے نام پر عبادتوں کی طرف ان کو بلایا جائے تو انہیں لطف محسوس نہیں ہوتا ۔ ہاں دین کے نام پر اگر گندی گالیاں اور فحش کلامی سے کام لیا جائے تو وہ اس میں لطف محسوس کرتے ہیں Excite ہو جاتے ہیں اور دین کے نام پر اگر انہیں کسی کے قتل و غارت پر ابھارا جائے، فساد پر ابھارا جائے آگ لگانے کی تعلیم دی جائے تو امَنَّا وصَدَّقنا کہہ کر ان آوازوں پر لبیک کہتے ہیں اور ان کی تعمیل کرتے ہیں۔ تو پھر رشوت کے طور پر گویا کہ ان کو بھی اس گندے رزق میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ علماء تو تکذیب کے ذریعہ روپیہ کماتے ہیں جو خالصہ تکذیب کی وجہ سے ان کو چندے کے طور پر دیا جاتا ہے اور عوام کو کہتے ہیں کہ تم لوگوں کے اموال لوٹو یہ سب تمہارے لئے جائز ہے بچی کھچی دکانوں کو آگیں لگاؤ اور گھر کو لوٹ لو اور باقیوں کو غارت کر دواس طرح قرآن کریم کا یہ بیان کہ کیا تم نے تکذیب کو اپنے رزق کا ذریعہ بنالیا ہے ان کے علماء پر بھی صادق آتا ہے اور ان کے عوام پر بھی بالآخر صادق آجاتا ہے اس کے برعکس قرآن کریم کچھ ایسے لوگوں کا ایک بالکل مختلف نقشہ بھی کھنچتا ہے جن کی خدمت دین تکذیب کی بناء پر نہیں بلکہ تصدیق کی بناء پر ہوتی ہے وہ اپنی قوت ایمان سے پاتے ہیں کفر سے نہیں پاتے تکفیر بازی کے نتیجہ میں وہ خدمتوں پر اکسائے نہیں جاتے بلکہ تصدیق کے نتیجہ میں خدمتوں پر اکسائے جاتے ہیں اور ان دونوں محرکات کے نتائج بالکل مختلف ہیں اتنے مختلف کہ ان دونوں میں گویا ز مین اور آسمان کا فرق ہے، گویا بعد المشرقین ہے۔ اول محرک کے نتیجہ میں اموال حاصل کرنے کی تحریص ہوتی ہے اور دوسرے محرک کے نتیجہ میں اموال لٹانے کی تحریک ہوتی ہے۔ بجائے اس کے کہ تکذیب کر کے اموال حاصل کرنے کی حرص بڑھے ، تصدیق کرنے والوں کا بالکل الٹ نقشہ ہوتا ہے۔ وہ تصدیق کے نتیجہ میں ان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی راہ خدا میں لٹانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ تکذیب کے نتیجے میں دوسروں کو دکھ دینے کی تحریک پیدا ہوتی ہے اور تصدیق کے نتیجہ میں خود دکھ اٹھانے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ تکذیب کے نتیجے میں انسان کی آنکھوں سے آگ