خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 54

خطبات طاہر جلدم 54 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء ظاہر کرتا ہے۔دوستوں کو عموماً ربط کے ساتھ معلوم نہیں کہ کیا ہوتا رہا ہے اور اب کیا ہو رہا ہے اور موجودہ واقعات کی کون سی کڑیاں ہیں جو 1974 ء کے واقعات سے ملتی ہیں۔چنانچہ موجودہ مخالفت کا کچھ پس منظر تو اس رنگ میں سامنے آتا ہے کہ اس وقت جماعت کے خلاف جو جد و جہد ہو رہی ہے وہ مربوط شکل میں کس طرح آگے بڑھی ہے اور اب کس شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔پھر اس پس منظر کا ایک پہلو اور بھی ہے جس کا غیر ملکی طاقتوں سے تعلق ہے یا غیر مذاہب سے تعلق ہے۔بڑی بڑی استعماری طاقتیں ہیں جو ان کوششوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں اور ان کے بہت برے ارادے ہیں جو با قاعدہ ایک منصوبے کے طور پر آج سے سالہا سال پہلے بلیو پرنٹ (Blue Print) کی شکل اختیار کر چکے تھے، باقاعدہ تحریر میں باتیں آچکی تھیں۔آپس میں باقاعدہ معاملات طے ہو چکے تھے۔چنانچہ اربوں روپیہ ایک منصوبے کے تحت جماعت احمدیہ کے خلاف استعمال ہو رہا ہے کم از کم 20 سال سے تو میں بھی جانتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے۔یہی نہیں بلکہ ہماری مخالف جماعتوں کو باقاعدہ تربیت دی گئی اور پاکستان کے جو ملکی حالات ہیں ان میں دخل اندازی کا بھی اس کو ذریعہ بنایا گیا۔اس کی بہت سی تفاصیل ہیں اگر موقع پیدا ہوا یا ضرورت محسوس ہوئی تو انشاء اللہ بعد میں ان کا ذکر کروں گا۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے خلاف اٹھنے والی اس موجودہ مہم کا 1974ء کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے اور 1974 ء کے واقعات کی بنیاد دراصل پاکستان کے 1973ء کے آئین میں رکھ دی گئی تھی۔چنانچہ آئین میں بعض فقرات یا دفعات شامل کر دی گئی تھیں تا کہ اس کے نتیجہ میں ذہن اس طرف متوجہ رہیں اور جماعت احمدیہ کو باقی پاکستانی شہریوں سے ایک الگ اور نسبتا ادنی حیثیت دی جائے۔میں نے 1973ء کے آئین کے نفاذ کے وقت اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی خدمت میں عرض کیا اور آپ کو اس طرف توجہ دلائی۔بعد ازاں جس طرح بھی ہو سکا جماعت مختلف سطح پر اس مخالفانہ رویہ کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کرتی رہی۔لیکن ان کوششوں کے دوران یہ احساس بڑی شدت سے پیدا ہوا کے یہ صرف یہاں کی حکومت نہیں کروا رہی بلکہ یہ ایک لمبے منصوبے کی کڑی ہے اور اس معاملہ نے آگے بڑھنا ہے۔بہر حال 1974ء میں ہمارے خدشات پوری طرح کھل کر سامنے آگئے۔1974ء میں پاکستان کو جو حکومت نصیب تھی ، اس میں اور موجودہ حکومت میں ایک نمایاں