خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 602 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 602

خطبات طاہر جلد۴ 602 خطبه جمعه ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء کے بھی رزق ہوتے ہیں مگر بہر حال وہ ہاتھ کی حلال کمائی ہوتی ہے،ان کے بدن کولگتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے جو ان کو طاقتیں بخشی تھیں وہ بنی نوع انسان کے فائدے اور ان کی بھلائی کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کو رزق ملتا ہے۔دنیا کی نظر اس کو گندہ رزق سمجھ رہی ہے۔دنیا کی آنکھیں اس کو پلید کھانا مجھتی ہے مگر خدا جو رازق ہے جو کائنات کا مالک اور خالق ہے وہ کہتا ہے مجھے تو پلید رزق یہی نظر آ رہا ہے کہ تم نے تکذیب کو ذریعہ بنالیا ہے رزق کی کمائی کا۔اتنا گر گئے ہواتنے کمینے ہو گئے ہو اور امر واقعہ یہ ہے کہ آج کروڑوں نہیں اربوں روپیہ جماعت احمدیہ کی تکذیب کے او پر خرچ ہو رہا ہے اور یہ جو مختلف ملکوں کے دورے ہور ہے ہیں اور بے شمار خرچ کیا جارہا ہے افریقہ میں اور امریکہ میں اور انگلستان میں اور یورپ کے دوسرے شہروں میں اور ایشیاء کے دوسرے ملکوں میں ہر جگہ ان لوگوں کے پاس تکذیب کے لئے کہیں سے پیسہ آ رہا ہے اور جب یہ تکذیب چھوڑتے ہیں تو ان کا مارکیٹ میں کوئی مول ہی نہیں پڑتا۔عجیب قوم ہے۔آج ذرا علماء کا منہ بند کر وا کے دکھا دیں کوئی بھی کہیں جماعت کے خلاف تو ایک دم ان کا رزق کا ذریعہ ختم ہو جائے گا۔وہی روٹیاں جو شام کو بٹا کرتی تھیں گاؤں سے وہی رہ جائیں گی باقی بس۔تو جتنی شانیں ہیں یہ موٹریں، یہ ہوائی جہازوں کے سفر یہ تکذیب کے ذریعہ سے رزق مل رہا ہے اور خدا کی شان دیکھیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے متعلق فرمایا تھا کہ ایسی قوم بھی ظاہر ہونے والی ہے، ایسے نئے انداز مخالفت بھی اب تمہیں نظر آئیں گے وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ پس ان تصویروں کو دیکھو اور سمجھو کہ تم خود کیا بنتے چلے جار ہے ہو اور ہمیں کیا بناتے چلے جارہے ہو۔تم چاہتے ہو کہ ہمیں صفحہ ہستی سے مٹادو لیکن ہم تو وہ نقوش نہیں ہیں جو ظاہر ہو جائیں تو پھر مٹ جایا کرتے ہیں۔ایک عام دنیا کا شاعر کہتا ہے کہ: ع ثبت است بر جریده عالم دوام ما ہم میں وہ خوبیاں ہیں کہ جریدہ عالم پر ہمارے نقوش ثبت ہو گئے ہیں، ہمارا دوام ثبت ہو گیا۔تو پھر خدا کی قسم وہ قوم جس کے نقوش جریدہ قرآن پر نقش ہو چکے ہوں ، کون ہے دنیا میں جواس قوم کے نقوش کو مٹا کے دکھا دے۔ان نقوش کی زندگی کا قرآن ضامن ہو چکا ہے۔ان کی بقاء کا قرآن ضامن ہو چکا ہے۔ان کے دن بدن نئے شان کے ساتھ جلوہ گر ہونے کا قرآن کریم ضامن ہو چکا