خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد۴ 601 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۸۵ء لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ کہلا رہی ہو وہ نہ علماء کے بس میں رہتی ہے نہ حکومتوں کے بس میں رہتی ہے۔تو پھر اس کے لئے بڑی کثرت سے روپیہ بھی خرچ کیا جاتا ہے اور پیشہ ور مخالفین مقرر ہو جاتے ہیں اور خالصہ اس وجہ سے ان کو پیسہ ملتا ہے کہ وہ اس مخالفت پر ملازم رکھے گئے اور مقرر ہو گئے کہ تم نے مخالفت کرنی ہے اور زندگی میں کام ہی کوئی نہیں۔اور وہ دور بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ظاہر ہے۔اور یہ بھی ان آیات میں سے ہے جو اس سے پہلے دور اول میں رونما ہوتی بظاہر نظر نہیں آرہیں فرماتا ہے : اَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ اَنْتُمْ مُدْهِنُونَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ (الواقعہ : ۸۲ ۸۳) اے بیوقوف قوم کے چند لوگو! تم نے اب یہ ذریعہ رزق کا بنالیا ہے پیشہ ور بن گئے ہو رزق کمانے والے صرف اس بنا پر کہ تم خدا کے بچوں کی مخالفت کرو گے اور تکذیب کرو گے۔اب اس بات کو سمجھ کر آپ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو حضرت رسول اکرم ﷺ کے اولین زمانے میں تو ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔وہ جو کمائیوں کے ذریعے تھے وہ تو اور تھے کوئی پیشہ ور مولوی انہوں نے نہیں رکھا ہوا تھا اس غرض سے کہ وہ مخالفت کرے اور جھٹلانے کے پیسے کھائے۔تاریخ پر نظر ڈالیں دکھائیں کوئی واقعہ مجھے تو کہیں نظر نہیں آیا۔کوئی ہوگا تو بڑا مدھم اور اوجھل ہوگا۔لیکن قرآن بڑی شان اور بڑی وضاحت کے ساتھ کھول کر بیان کر رہا ہے کہ لازماً محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے کا یہ واقعہ ہے اور قرآن کی بات ٹل نہیں سکتی اس لئے اگر دور اول میں یہ واقعہ نہیں ہوا تو لازماً دور آخر میں ہونا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور کے آغاز سے لے کر آج تک یہ قصہ چل رہا ہے کہ علماء تکذیب کی کھٹی کھا رہے ہیں۔ہزار ہا ہزار ہا علماء ایسے پیدا ہوئے اورا بھی بھی پیدا ہوئے ہیں اور ان کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کا پیشہ تکذیب ہے اور سارا رزق تکذیب کی وجہ سے کھاتے ہیں۔احمدیت کو گالیاں دینی چھوڑ دیں تو ان کی آمدنیاں ختم اور گالیاں دینی بند کر دیں یا تائید کا لفظ کہہ دیں تو تب بھی ان کے رزق ختم۔چنانچہ بعض علماء جب دلائل مان جاتے ہیں تو آخر پر کہتے ہیں خاموشی سے کہ میاں رزق کا سوال ہے مجبوری ہے۔یہی لفظ بولتے ہیں رزق کا سوال ہے اور قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے یہ پیشگوئی فرما دی تھی وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ کتنا کمینہ رزق ہے چوہڑوں چماروں