خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 599 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 599

خطبات طاہر جلدم 599 خطبہ جمعہ ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء میں پورا ہونا تھا۔اور یہ عجیب بات ہے کہ سوائے میری ذات کے خلیفہ مسیح الرابع کے آج سے پہلے کسی خلیفہ کے متعلق قوم نے یہ آواز بلند نہیں کی کہ پکڑو اور اس کو قتل کرو اور جھوٹا الزام قنا کا لگایا گیا ہو جس طرح جھوٹا الزام حضرت موسی پر بھی قتل کا لگایا گیا تھا۔اب بظا ہر تو یہ لگ رہا ہے کہ قوم کے علماء مطالبہ کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس کو قتل کر کے دکھائیں گے لیکن قرآن اصل بات بتارہا ہے کہ یہ علماء کی سازش نہیں ہے یہ حکومت وقت کی سازش تھی۔ورنہ قرآن کریم یہاں یہ نہ فرما تا فرعون کی طرف منسوب کر کے وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسی اور اگر یہ گزشتہ زمانہ کے متعلق تھا صرف تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بعینہ ان الفاظ میں الہام نہیں ہونا تھا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بعینہ ان الفاظ میں الہام کا ہونا بتا رہا ہے کہ آپ کے متعلق یہ الہام ہے اور آپ کے کسی غلام کی صورت میں یہ پورا ہوگا اور بظاہر اس وقت لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں دو، ہم قتل کرتے ہیں۔لیکن خدا کہتا ہے جو عالم الغیب ہے کہ یہ حکومت کی سازش ہے اور دراصل فرعون وقت یہ کہہ رہا ہے کہ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسى مجھے ذرا موقع تو دو، دیکھو میں کس طرح اس کو قتل کر کے دکھاتا ہوں۔وَلْيَدْعُ رَبَّہ پھر پکارتا رہ جائے اپنے رب کو ، دیکھیں گے کہ کس طرح اس کا رب اس کو بچاتا ہے اور اس کے بعد پھر دو دلائل بھی وہ پیش کرتا ہے۔اپنی اس دھاندلی کے متعلق، اس کے حق میں ، اس کے جواز کے طور پر وہ دو دلائل پیش کرتا ہے۔اور عجیب بات کے کہ یہی دو دلائل آج حکومت پاکستان کی طرف سے ساری دنیا کی Embassies کے سامنے پیش کئے گئے ہیں اور جب مقامی احمدیوں نے احتجاج کئے ہیں تو انہوں نے حکومت پاکستان کے ان دلائل کو لفظاً لفظاً دہرا کے ان کو بتایا ہے کہ حکومت پاکستان کا یہ موقف ہے اور یہ مجبور ہے۔دلائل کیا دیئے ہیں؟ اِنّى اَخَافُ اَنْ تُبَدِّلَ دِينَكُمْ میں یہ ڈرتا ہوں میں جو اس کی مخالفت کر رہا ہوں اس شدت کے ساتھ فرعون کہتا ہے یہ اس لئے کر رہا ہوں کہ کہیں یہ تمہارا دین نہ تبدیل کر دے۔اب یہ عجیب بات ہے ساری قوم حضرت موسیٰ کی مخالف تھی اور قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے بڑے لوگ آپس میں ان کے قتل کے مشورے کرتے تھے اور قوم کا ذکر ہی نہیں کیا فرعون نے۔کہتا ہے میں مخالفت کر رہا ہوں یعنی یہ سارا سہرا اپنے سر پر لے رہا ہے۔اور اس کی پھر دلیل دے رہا ہے کہ میں جو مخالفت کر رہا ہوں۔اے قوم! تمہاری خاطر تمہاری