خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 597 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 597

خطبات طاہر جلدم 597 خطبه جمعه ۵/ جولائی ۱۹۸۵ء جماعت احمدیہ پر آیا ہوا ہے اور آج کل آیا ہوا ہے اور اس ترتیب کے ساتھ آیا ہوا ہے۔یہ ساری باتیں اب بعد میں جاری ہوئی ہیں اور ہورہی ہیں بڑی شدت کے ساتھ۔چنانچہ یہ بھی بڑا عجیب تکبر کا کلمہ ہے اور اسی سے پتہ چلتا ہے کہ مذہبی مخالفت ایک سیاسی رخ اختیار کرلے گی اور جمعیت کی بات کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ ہم اکثریت میں ہیں اور یہ دلیل ہے ہماری اور جب غیر قو میں پوچھیں گی کہ تم یہ کیا ظلم کر رہے ہو تو کہیں گے إِنَّ هَؤُلَا عَلَشِرْ ذِمَةٌ قَلِيْلُونَ ) اور تصور ان کا ہے وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَابِظُونَ یہ بدمعاش لوگ ہم کو غصہ دلا رہے ہیں چھوٹے سے حقیر سے لوگ۔اور لفظ شرذمة بڑا ہی پیارا ہے نقشہ کھنچنے کے لحاظ سے ویسے تو بڑا ہی نکما لفظ ہے لیکن چونکہ نقشہ بہت عمدہ کھینچ رہا ہے اس لئے یہاں بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔عرب کہتے ہیں خوب شرازم کہتے ہیں ایسے کپڑے کو جو چیتھڑا بن چکا ہو۔پھٹا ہوا جسے پنجابی میں لیر لیر کہتے ہیں۔تو جو کپڑا چیتھڑا چیتھڑا ہو چکا ہو اس کو عرب شـوب شـر ازم کہتے ہیں تو شرذمة کا مطلب ہے ایک بوسیدہ پھٹا ہوا چھوٹا سا ٹکڑا۔تو کس قدر متکبرانہ فقرہ ہے۔ان کی حالت تو دیکھو بوسیدہ پھٹے ہوئے ذلیل کپڑے کے ایک ٹکڑے ہی تو ہیں جو ہم سے پھٹ کر الگ ہو چکا ہے اور اب یہ کیا حق رکھتے ہیں اور باہر بیٹھا یہ چھوٹا سا ٹکڑا ہمیں غصہ دلا رہا ہے۔تو ہم کیا کریں پھر؟ وَإِنَّا لَجَمِيعُ خُذِرُونَ ہم تو ایک جمعیت کے طور پر یہاں موجود ہیں پھر ہم تو برداشت نہیں کریں گے، ہم تو پھر ماریں گے ان کو۔تو جو دلائل کے ساتھ مذہبی مخالفت تھی وہ ایک جنون کی شکل اختیار کر گئی قرآن کریم کی اس تاریخ کے مطابق اور اس جنون نے پھر سیاسی رستے اختیار کئے اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے یہ مضمون بنایا گیا کہ یہ تم کہتے ہو Innocent ہیں معصوم ہیں، ان کا کیا قصور ہے؟ قصور یہ ہے کہ ایک ذلیل سی اقلیت ہے چھوٹی سی اور ہمارے لئے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔غصہ دلا رہے ہیں ہمیں، ہم تو پھر غصہ کھائیں گے تو ماریں گے بھی۔اور پھر خدا فرماتا ہے کہ جب یہ باتیں ہوتی ہیں قوموں میں تو پھر اس وقت کے بادشاہ ، اس وقت کی حکومتیں اپنی خاطر ، اپنے بچاؤ کی خاطر اپنی Popularity کی خاطر، ہر دلعزیزی کی خاطر اس مسئلہ کو خود اٹھالیا کرتی ہیں۔